نیوکلیئر معاہدہ کے مسودہ کا افشا ،ایران کی برہمی

   

ویانا : ویانا میں طویل مذاکرات کے بعد طے پانے والے ممکنہ حتمی معاہدے کے مسودہ کے بارے میں معلومات اِفشا ہونے پر ایران کا رد عمل سامنے آ گیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے جمعرات کی شام اپنی ٹویٹ میں ایرانی نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے زیر گردش معلومات کو ’’گمراہ کن‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ میڈیا رپورٹوں کی صورت میں یہ معلومات خطرناک ہے۔ ان کا اشارہ روئٹرز نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹ کی طرف تھا۔ رپورٹ میں متعدد سفارتکاروں کی تصدیق کا حوالہ دیا گیا تھا۔خطیب زادہ کے مطابق نیوکلیئر معاہدے کی حقیقت ان من گھڑت کہانیوں سے بہت دور ہے جو بنا ذرائع کے گردش میں آ رہی ہیں۔ادھر ویانا میں روسی مندوب میخائل اولیانوف کا کہنا ہیکہ مذکورہ اِفشا معلومات کا مقصد بات چیت کے آخری اور حساس مرحلے پر گڑبڑ پیدا کرنا ہے۔ اپنی ایک ٹویٹ میں اولیانوف کا کہنا ہیکہ ہمارے معاہدہ کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی اس کے مخالفین نا خوش گوار فضا پیدا کرنے کیلئے زیادہ سرگرم اور فعال ہوگئے ہیں۔اس سے قبل کئی سفارتکاروں اور ایک ایرانی ذمہ دار نے باور کرایا تھا کہ ویانا میں مذاکرات کار معاہدہ کے مسودہ تک پہنچ گئے ہیں جو 20 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے متن میں اقدامات کا ایک مجموعہ وضع کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا آغاز ایران کی جانب سے یورینیم کی 5% سے زیادہ تناسب سے افزودگی روک دینے سے ہو گا۔ علاوہ ازیں متن کے مطابق امریکی پابندیوں کے سبب جنوبی کوریا کے بینکوں میں منجمد ایران کی تقریبا 7 ارب ڈالر کی رقم آزاد کی جائے گی۔ مزید یہ کہ ایران میں زیر حراست مغربی قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں آئے گی۔تاہم بات چیت سے مطلع سفارتکاروں نے ساتھ ہی اشارہ دیا ہیکہ بعض معلق نکات بھی موجود ہیں۔معاہدہ سے متعلق یہ معلومات ایسے وقت میں افشا ہوئی ہیں جب امریکہ ، ایران اور مذاکرات کی میز پر موجود مغربی ممالک بات چیت کے حتمی مرحلے کے قریب پہنچنے کی تصدیق کر چکے ہیں۔
ویانا بات چیت کا آغاز گذشتہ برس اپریل میں ہوا تھا۔