نیوکلیئر ہتھیار دنیا میں کتنے اور کن ممالک کے پاس ہیں؟

   

لندن۔15جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آپ نے کئی مرتبہ نیوکلیئر ہتھیاروں کا ذکر سنا ہوگا۔ یہ انتہائی تباہ کن اور مہلک ہوتے ہیں اور ان کے دھماکے اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ صرف ایک نیوکلیئر بم پورے شہر کو تباہ کر سکتا ہے۔ ایک نیوکلیئر بم سب سے بڑے غیر نیوکلیئر بم سے کہیں زیادہ تباہی لا سکتا ہے۔ اس بارے میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ کچھ ملکوں کے پاس نیوکلیئر بم نہیں ہونا چاہیے جن میں ایران بھی شامل ہے جبکہ کچھ ملک انہیں رکھ سکتے ہیں۔ کس ملک کو انھیں رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے اور کس کو نہیں اس بحث کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے مگر ہم نے نیوکلیئر ہتھیاروں کے بارے میں اہم سوالوں کے جواب جمع کیے ہیں۔ یہ انتہائی طاقتور دھماکہ خیز ہتھیار ہوتے ہیں۔ آپ نے سکول میں سائنس کی کلاسوں میں ایٹم اور آئسوٹوپ کا ذکر سنا ہوگا۔یہ دونوں نیوکلیئر دھماکہ کرنے میں اہم ہوتے ہیں۔ بم کو ایٹم توڑنے یا ان کے اندر موجود خفیف ذرات کو ملانے سے توانائی ملتی ہے۔ اسی لیے نیوکلیئر بم کو اکثر ایٹم بم بھی کہا جاتا ہے۔نیوکلیئر بم تاریخ میں صرف دو بار استعمال ہوئے ہیں 1945 ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گئے جن سے شدید تباہی اور بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم کے اثرات کئی ماہ تک رہے اور اندازے کے مطابق 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ناگاساکی پر گرائے جانے والے بم سے 70 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد کسی بھی جنگ میں ان کا استعمال نہیں ہوا۔ نیوکلیئر ہتھیاروں سے بڑی تعداد میں تابکاری خارج ہوتی ہے۔ دھماکے کے بعد بھی اس کے اثرات طویل عرصے تک رہتے ہیں جس سے متلی، الٹیاں، اسہال، سر درد اور بخار ہو جاتا ہے۔ اس وقت دنیا میں پانچ تسلیم شدہ نیوکلیئر ریاستیں امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس اور روس ہیں جبکہ چار دیگر ممالک بھی نیوکلیئر ہتھیار رکھتے ہیںان میں سے انڈیا، پاکستان اور شمالی کوریا نیوکلیئر تجربات کر چکے ہیں جبکہ اسرائیل کے بارے میں یہی خیال ہے کہ اس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی نہ تصدیق کی جاتی ہے نہ تردیداندازوں کے مطابق ان ممالک کے پاس کل ہتھیاروں کی تعداد 14 ہزار کے لگ بھگ ہے اور ان میں سے زیادہ تر ہتھیار امریکہ اور روس کے پاس ہیںامریکی سائنسدانوں کی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ 2019 میں لگائے گئے اندازوں کے مطابق روس کے پاس چار ہزار سے زیادہ جبکہ امریکہ کے پاس چار ہزار کے قریب نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں جن میں سے دونوں ممالک میں ایک ہزار سے زیادہ ہائی الرٹ پر ہیں۔ویسے تو جس کے پاس بھی ٹیکنالوجی، مہارت اور سہولیات موجود ہیں وہ انھیں بنا سکتے ہیں لیکن کس ملک کو انھیں بنانے کی اجازت ہونی چاہیے، یہ ایک بالکل الگ بحث ہے۔اس کی وجہ ہے نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کا معاہدہ۔ اس معاہدہ کا مقصد ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور نیوکلیئر اسلحے کی تخفیف ہو۔ 1970 سے لے کر اب تک 191 ممالک نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کے معاہدے ‘این پی ٹی’ میں شامل ہوئے ہیں اور اس معاہدے کے تحت پانچ ممالک کو نیوکلیئر ہتھیار رکھنے والی ریاستیں سمجھا جاتا ہے جن میں امریکہ، روس، فرانس اور چین شامل ہیں۔ ان پانچ ممالک کو یہ ہتھیار رکھنے کی اجازت ہے کیونکہ انھوں نے نیوکلیئر ہتھیار کو تیار اور ان کا تجربہ 1 جنوری 1967 کو معاہدے کے نفاذ سے پہلے کیا تھا۔
گو کہ ان ممالک کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں، معاہدے کے تحت انھیں بھی ان کی تعداد میں کمی لانا ہو گی اور وہ انھیں ہمیشہ کے لیے نہیں رکھ سکتے۔ اسرائیل نے اپنے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہونے کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی انکار، پاکستان اور انڈیا ‘این پی ٹی’ میں شامل ہی نہیں ہوئے جبکہ شمالی کوریا 2003 میں اس معاہدے سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ایران نے اپنا نیوکلیئر پروگرام 1951 میں شروع کیا اور ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا کہ یہ ایک نیوکلیئر توانائی کا امن پسند پروگرام ہے۔مگر شبہ کیا جاتا ہے کہ ایران اس پروگرام کی آڑ میں خفیہ طور پر نیوکلیئر ہتھیار بنا رہا ہے جس کی وجہ سے 2010 میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل، امریکہ اور یورپی یونین نے ملک پر کمر توڑ پابندیاں عائد کر دیں۔