نیوکلیر مذاکرات کی ناکامی پر امریکی فوج کو تیار رہنے کا حکم

   

مذاکرات کے 7 یا 8 نکات معاہدہ کیلئے انتہائی اہم اور پیشرفت کیلئے ضروری

واشنگٹن ۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران سے نیوکلیر مذاکرات کی ناکامی پر پنٹاگان کوتیاررہنے کا حکم دے دیا۔ امریکہ کے بالواسطہ اور 5 بڑی طاقتوں کے بلاواسطہ ایران کے ساتھ نیوکلیر معاہدہ پرمذاکرات ایک بار پھر کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ ہے۔ ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی نے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں صدر بائیڈن نے ایران کے خلاف دوسرے متبادل تیار رکھنے کا کہا ہے۔ دوسری جانب نیوکلیر معاہدہ کے حوالے سے تہران حکومت اور یورپی اقوام کے درمیاں مذاکراتی عمل ویانا میں جاری ہے۔ کئی معاملات پر فریقین میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ یورپی یونین کے ایک سینئر اہل کار نے نام مخفی رکھتے ہوئے بتایا کہ ویانا میں ایران کے ساتھ نیوکلیر مذاکرات میں پیشرفت منطقی ہے۔ یورپی اقوام اور ایران 2015ء کے نیوکلیر معاہدہ کو بچانے کی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مذاکراتی عمل میں کئی امور پر فریقین کا موقف سخت ہے اور پیچیدگیوں کو سلجھانے میں مذاکرات کاروں کو مشکل کا سامنا ہے۔ یورپی یونین کے سینئر اہل کار نے نیوز ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات میں کئی اہم معاملات پر بات ہونا ابھی باقی ہے اور حتمی مرحلے تک ان پر بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔ اس اہل کار نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل منطقی انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایران کی نئی مذاکراتی ٹیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی مذاکرات ایرانی وفد کی مستقبل سے وابستہ توقعات کو مثبت خیال کرتے ہیں۔ یورپی یونین کے اہل کار کے مطابق مذاکرات میں 7 یا 8 نکات ایسے ہیں جو اس معاہدہ کے حوالے سے نہایت اہم ہیں اور ابھی ان میں پیش رفت ضروری ہے۔ عالمی طاقتیں اس وقت ایران کے ساتھ قریب قریب معطل شدہ 2015ء کے نیوکلیر معاہدہ کو فعال بنانے کے لیے مذاکرات ویانا میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔