نیویارک میں ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک پر پابندی

   

Ferty9 Clinic

نیویارک: امریکہ کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر نیویارک میں ٹیک آؤٹ آرڈرز میں ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک کے کچرے کو کم کرنے کیلئے پابندی لگا دی ہے۔ نئے ضابطوں کے تحت شہر میں ریستوراں اور ڈیلیوری سروسز کو ٹیک آؤٹ اور ڈیلیوری آرڈرز میںپلاسٹک کے برتن، مصالحہ کے پیکٹ، نیپکن یا اضافی کنٹینرز فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہے جب تک کہ گاہک ان کا مطالبہ نہ کریں۔اس کا مطلب ہیکہ ریستوراں اب گاہک کی درخواست کے بغیر خود بخود پلاسٹک کنٹینرز، چاقو اور کانٹے ، میو پیکٹ، ڈریسنگ کے ساتھ ساتھ کیچپ کو شامل نہیں کریں گے ۔ ایک مرتبہ استعمال میں آنے والے پلاسٹک کے کچرے کو کم کرنے کے مقصد سے نئے اقدامات اس سال کی شروعات میں نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز کے دستخط کردہ ‘اسکیپ دی اسٹف’ قانون کے تحت نافذ ہوئے ہیں ۔مذکورہ ضابطوں کی وارننگ کی مدت 30 جون 2024 کو ختم ہو رہی ہے ، پھر خلاف ورزی پر جرمانے جاری کیے جائیں گے ۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پہلے بطور جرمانہ 50 امریکی ڈالر، دوسرے جرم پر 150 امریکی ڈالر اور تیسرے جرم پر 250 امریکی ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔