ایک ملزم کا سنسنی خیز انکشاف‘ چچا نے کرائی تھی سیٹنگ‘ سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے پر الزامات
نئی دہلی: نیٹ یو جی پیپر لیک کا معاملہ ملک بھر میں سرخیوں میں ہے اور اب اس معاملے میں سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے میں گرفتار کئے گئے 4 ملزمین نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایک رات پہلے ہی امتحان کا پرچہ حاصل ہو گیا تھا۔ ایک ملزم کا کہنا ہے کہ اس کے انجینئر چچانے اس کیلئے سیٹنگ کی تھی۔خیال رہے کہ مرکزی وزارت تعلیم نے چہارشنبہ کو بہار پولیس کے اقتصادی جرائم یونٹ سے پٹنہ میں قومی اہلیت۔کم۔داخلہ ٹیسٹ (نیٹ) – گریجویشن 2024 کے انعقاد میں مبینہ بے ضابطگیوں پر رپورٹ طلب کی ہے۔ اس معاملہ کے ایک ملزم انوراگ یادو نے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔پرچہ لیک معاملہ میں ملزم انوراگ یادو بہار کے سمستی پور کا رہنے والا ہے۔ اس نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ کوٹا کے ایلن کوچنگ سنٹر میں نیٹ امتحان کی تیاری کر رہا تھا اور اس کے پھوپھا سکندر پرساد یادوینڈو جونیئر انجینئر ہیں۔ انوراگ نے بیان میں کہا کہ ایک دن انہوں نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ 05.05.24 کو نیٹ کا امتحان ہے۔ اب تم کوٹا سے واپس آ جاو‘ امتحان کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان کے کہنے پر میں کوٹا سے واپس آ گیا۔ میرے چچا نے 04.05.24 کی رات مجھے امیت آنند اور نتیش کمار کے ساتھ چھوڑ دیا۔انوراگ نے مزید بتایا کہ جس جگہ مجھے ڈراپ کیا گیا تھا وہاں مجھے نیٹ امتحان کا سوالیہ پرچہ اور جوابی شیٹ دی گئی۔ جہاں رات کو امتحان میں آنے والے سوالات کی تیاریاں کرائی گئیں۔ میرا مرکز ڈی وائی پاٹل اسکول میں تھا اور جب میں امتحان دینے کیلئے اسکول گیا تو وہ سوالیہ پرچہ زبانی یاد تھا۔ مجھے امتحان میں بھی یہی سوالات ملے۔ امتحان کے بعد اچانک پولیس آئی اور مجھے پکڑ لیا جس کے بعد میں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔بہار میں نیٹ امتحان پر سیاسی الزام برائے الزام کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ بی جے پی اور آر جے ڈی دونوں پارٹیاں اس سوالیہ پرچہ لیک کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سکندر یادویندو کے حوالے سے آمنے سامنے ہیں۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ وجے سنہا کا کہنا ہے کہ سکندر تیجسوی یادو کے پی اے پریتم یادو کا رشتہ دار ہے جبکہ راشٹریہ جنتا دل نے اس کے برعکس بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ پر الزام لگایا ہے کہ اس لیک معاملے میں کچھ ملزمین کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں۔ وزارت کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ پٹنہ میں امتحان کے انعقاد میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں بہار پولیس کے اقتصادی جرائم یونٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد حکومت مزید کارروائی کرے گی۔اہلکار نے کہا کہ حکومت امتحانات کی سالمیت کو یقینی بنانے اور طلباء کے مفادات کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے جبکہ ملوث کسی بھی شخص یا تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔یہ امتحان 5 مئی کو 4750 مراکز پر لیا گیا تھا اور اس میں تقریباً 24 لاکھ امیدواروں نے شرکت کی تھی۔ اس کے نتائج کا اعلان 14 جون کو متوقع تھا لیکن چونکہ جوابی پرچوں کی جانچ مکمل ہو چکی تھی اس لیے نتائج کا اعلان 4 جون کو ہی کر دیا گیا۔