نیٹ یوجی مکرر امتحان نہیں ہوگا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

   

ئی دہلی: نیٹ یو جیکیس میں سپریم کورٹ نے آج اپنا اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیٹ یو جی پیپر لیک معاملہ ملکی سطح پر نہیں تھا بلکہ یہ صرف پٹنہ اور ہزاری باغ تک محدود تھا۔ اس لئے پھر سے امتحانات نہیں کرائے جائیں گے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر کسی کو ابھی بھی تشفی نہیں ہوئی ہے تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ نیشنل ٹسٹنگایجنسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ امتحانات شفاف طریقے سے کرائے اور آئندہ اس بات کا خیال رکھے کہ کسی بھی چیز کی بے ضابطگی نہیں ہونی چاہئے۔نیٹ یو جی۔ 2024 میڈیکل داخلہ کے امتحان کو منسوخ نہ کرنے کی وجوہات بتائے گی۔اس سے پہلے یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ نیٹ یو جی کے امتحانات ہو سکتا ہے دوبارہ ہوں، مگر سپریم کورٹ نے پچھلے دنوں اپنا ایسا کروانے سے صاف انکار کردیا۔اب آج اس سلسلے میں وہ اپنی وضاحت پیش کرے گی کہ نیٹ یو جی کے امتحانات دوبارہ کیوں نہیں کرائے جا سکتے ہیں۔ پیپر لیک معاملے میں پچھلے دنوں ملک بھر میں احتجاج ہوئے تھے۔عدالت انڈرگریجویٹ میڈیکل کورسز کے لیے کوالیفائنگ امتحان یا تو دوبارہ منعقد ہونے یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ان درخواستوں میں اپیل کی گئی تھی کہ ٹسٹ دوبارہ کرائے جائیں یا پھر انکو منسوخ ہی کردیا جائے۔نیٹ یوجی امتحان میں غیر معمولی طور پر زیادہ تعداد میں طلباء نے 720 نمبر حاصل کئے جس کے بعد یہ تنازعہ کھڑا ہوا۔