نیٹ 2023 امتحان میں کیمسٹری مشکل فزیکس الجھا ہوا پرچہ

   

ماہرین اور طلبہ کا ردعمل ، اس سال جنرل زمرے میں کٹ آف مارکس 110 ہونے کے امکانات
حیدرآباد ۔ 8 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ماہرین اور طلبہ نے واضح کیا ہے کہ اس مرتبہ نیٹ کا امتحان طلبہ کے لیے الجھن کا شکار رہا ہے ۔ محنت اور لگن سے پڑھنے والے طلبہ کے لیے معمول سے زیادہ سخت اور اوسط تعلیمی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے کٹھن رہا ہے ۔ ایم بی بی ایس ، بی ڈی ایس اور طبی کورسیس میں داخلوں کے لیے اتوار کو پرامن طریقہ سے نیٹ امتحان کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ ریاست تلنگانہ سے درخواستیں داخل کرنے والے 95 فیصد طلبہ نے امتحان میں شرکت کی ہے ۔ ماہرین اور طلبہ نے بتایا کہ گذشتہ چار سال کے بہ نسبت اس مرتبہ امتحان سخت اور کٹھن ہونے کا اپنا اپنا تاثر پیش کیا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے گذشتہ سال تک امتحانی پرچہ زیادہ مشکل ترین نہیں تھا ۔ اس سال اس کو سخت اور کٹھن کردیا گیا ہے ۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس سال کٹ آف مارکس بھی کم ہونے کے امکانات ہیں ۔ سال 2020 میں جنرل زمرے میں کٹ آف مارکس 147 تھے ۔ او بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی طبقہ کے لیے 113 سال 2021 میں جنرل زمرے میں کٹ آف مارکس 138 ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی کے لیے 108 مقرر کیا گیا تھا گذشتہ سال 2022 میں جنرل زمرے میں 117 او بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے لیے 93 مقرر کیا گیا تھا ۔ جاریہ سال گھٹ کر جنرل زمرے کے لیے 110 اور او بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے لیے 85 ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ ماہرین نے بتایا کہ پچھلے سال کے مقابلے اس مرتبہ نیٹ کا پیپر زیادہ مشکل تھا ۔ گذشتہ چار سال کے دوران نیٹ کے امتحانات میں سوالیہ پرچے زیادہ مشکل نہیں تھے جس کی وجہ سے کٹ آف مارکس کو بھی کم کیا گیا ۔ اس سال پیپر بہت سخت تھا ۔ سوالات لمبے لمبے دئیے گئے ۔ کیمسٹری کا پیپر بہت زیادہ سخت تھا ۔ فطری طور پر طلبہ کیمسٹری میں پرابلمس پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور تھیوری پارٹ کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ لیکن اس مرتبہ تھیوری کے زیادہ سوالات دئیے گئے جس سے پیپر انتہائی سخت ہوگیا ۔ گذشتہ سال کے بہ نسبت اس سال فزیکس کا پیپر آسان رہا ہے ۔ چار پانچ سوالات الجھے ہوئے انداز میں دئیے گئے ایک سوال کے لیے جو چار اختیارات دئیے گئے ان میں کوئی ایک بھی صحیح نہیں تھا ۔ ۔ نباتیات کے سوالات آسان تھے مگر طویل بھی تھے ۔ جس کو پڑھنے میں طلبہ کو کافی وقت لگ گیا ۔ تلنگانہ میں سرکاری و خانگی میڈیکل کالجس کی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ کم مارکس حاصل ہونے کے باوجود نشستیں دستیاب ہونے کے امکانات ہیں ۔ مثال کے طور پر جنرل زمرے میں گذشتہ سال 6450 مارکس حاصل کرنے والوں کو کنوینر کوٹہ میں نشستیں دستیاب ہوئی اس سال 430 مارکس حاصل کرنے والوں کو کنوینر کوٹہ میں نشستیں دستیاب ہونے کے امکانات ہیں۔ گذشتہ سال 700 تک مارکس حاصل کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی جاریہ سال ایسے مارکس حاصل کرنے والوں کی تعداد گھٹ سکتی ہے ۔ سری چیتنیہ جونیر کالج کوکٹ پلی کے ڈین شنکر راؤ نے بتایا کہ اس سال نیٹ امتحان کا پیپر سخت آیا ہے ۔ کیمسٹری بہت زیادہ سخت رہا ہے ۔ فزیکس میں چار پانچ سوالات الجھے ہوئے تھے ۔ اگر جلد بازی کی جائے تو غلطیاں بھی ہوتی ہیں ۔ فزیکس کے ایک سوال کے لیے دئیے گئے چار اختیارات بھی درست نہیں تھے ۔ لہذا بونس مارکس دیا جانا چاہیے ۔۔ ن