چار گھنٹے طویل ورچول میٹنگ میں فیصلہ، مظاہرین نے غیر سیاسی شخصیت کو ترجیح دی
کھٹمنڈو ۔11؍ستمبر ( ایجنسیز ) نیپال میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان ایک اہم پیش رفت میں چیف جسٹس سشیلا کارکی کو نیپال کا عبوری لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بے مثال اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب سیاسی انتشار اور عوامی بے چینی قوم کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ چیف جسٹس سشیلا کارکی نے بتا یا کہ جنرل زیڈ مظاہرین نے مجھے عبوری حکومت کی قیادت کرنے اور آزادانہ، منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ میرا اولین فرض ہے کہ احتجاج کے دوران جانیں گنوانے والوں کو خراج اور ان کے لواحقین سے تعزیت کرنا ہے۔تاہم صدر رام چندرا پاؤڈیل کی منظوری کا انتظار ہے ۔ دوسری طرف کھٹمنڈوکی سڑکوں پر اس وقت کرفیو جیسی خاموشی ہے۔ چار گھنٹے کی ورچوئل میٹنگ کے بعد انہوں نے ملک کی عبوری قیادت سنبھالنے کیلئے سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کا نام پیش کیا۔اجلاس میں واضح طور پر کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں سے وابستہ کسی نوجوان کو قیادت کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ مقصد یہ تھا کہ اس تحریک کو مکمل طور پر غیر جانبدارانہ اور غیر سیاسی رکھا جائے۔ سشیلا کارکی جو اس وقت کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہیںکیونکہ وہ ایک سماجی کارکن اور سابق جج ہیں۔کھٹمنڈو کے میئر بلیندر شاہ اور نوجوان لیڈر ساگر دھکل کے نام بھی بحث میں آئے لیکن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا خیال تھا کہ موجودہ حالات میں صرف کارکی جیسی شخصیت ہی لوگوں کا اعتماد جیت سکتی ہے۔فوج کے سربراہ اشوک راج سگدل نے پہلے مشورہ دیا تھا کہ مظاہرین کو راشٹریہ سواتنتر پارٹی یا درگا پرسائی سے بات کرنی چاہیے۔ لیکن نوجوانوں نے اس تجویز کو ٹھکرا دیا۔ وہ کسی بھی ایسی طاقت سے خود کو دور کرنا چاہتے ہیں جس کا سیاسی ایجنڈا ہو۔نیپال میں عبوری حکومت کی تشکیل کی کوششیں جاری ہیں۔ اس درمیان وزیر اعظم کی دوڑ میں کْلمان گھسنگ کا نام سب سے آگے ہے۔ جمعرات11 ستمبر کو فوجی جنرل سے ملاقات میں جنریشن-زیڈ (جین-زی) نے کْلمان گھسنگ کے نام کو آگے کیا ہے۔ وہ بھی اس وقت جب فوجی جنرل اشوک راج سے خود سشیلا کارکی ملنے پہنچی تھیں۔