کھٹمنڈو: نیپال نے ہندوستان سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ سرحد کے پاس دریائے کالی کے علاقے میں سڑکوں کی تعمیر اور توسیع کو روک دے۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے گزشتہ ماہ لیپولیکھ کے علاقہ میں سڑکوں کی توسیع کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔نیپال کی حکومت نے ان کے اعلان پر ردعمل کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالا پانی جیسے علاقہ اس کے ملک کااٹوٹ حصہ ہیں۔ بیان میں ہندوستان پر زور دیا گیا کہ وہ متنازعہ علاقوں میں اپنی تمام تعمیراتی سرگرمیاں فوری طور پر روک دے۔نیپال کے وزیر اطلاعات و نشریات گیانیندر بہادر کارکی نے کہا کہ دریائے کالی کے مشرق میں جاری تنازعہ کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہندوستان پر زور دیا کہ وہ ان علاقوں میں تعینات اپنے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلا لے اور تاریخی حقائق اور شواہد کی بنیاد پر اعلیٰ سطحی بات چیت کے ذریعہ سرحدی تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کرے۔ دوسری جانب کھٹمنڈو میں ہندوستانی سفارتخانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ نیپال کے ساتھ اس کی سرحد پر ہندوستان کا موقف مستقل اور غیر مبہم ہے اور نیپال کی حکومت کو اس سے آگاہ بھی کیا جا چکا ہے۔ ہندوستان پہلے بھی یہ واضح کر چکا ہیکہ نیپال جن علاقوں پر اپنا دعویٰ کر رہا ہے وہ ہندوستان کا حصہ ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ نیپال کے ساتھ تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ 2020 ء کے وسط میں نیپال نے اس حوالے سے اپنا ایک نیا نقشہ منظور کیا تھا ، جس میں ان تمام علاقوں کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا۔ ہندوستان ان علاقوں پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔