نیک نام پورہ میں زیرتعمیر مسجد کو شہید کرنے کی ناپاک کوشش

,

   

شرپسندوں کے خلاف نارسنگی پولیس میں مسجد کے ذمہ داروں کی شکایت

حیدرآباد : نیک نام پور علاقہ میں مسجد کی تعمیر نو میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے مسجد کے کچھ حصہ کو شہید کردیا گیا۔ وائی ایس آر کالونی میں موجود مسجد جو ٹین شیڈ میں ہے اس کی پکی تعمیر کے دوران مسجد کو تباہ کردیا گیا۔ مسجد کی تعمیر کے لئے تیار کردہ پلرس کو خصوصی بلیڈس سے کاٹ دیا گیا۔ تاہم اس حرکت کے پس پردہ طاقتوں کا پتہ نہ چل سکا۔ مسجد کے ذمہ داروں نے پولیس نارسنگی میں شکایت درج کروائی۔ اطلاع کے فوری بعد پولیس کی ٹیم نیک نام پور علاقہ پہونچ گئی اور معائنہ کیا۔ مقامی عوام نے بتایا کہ مسجد کے اطراف موجودہ سی سی ٹی وی کیمروں پر کپڑا باندھ کر یہ کارروائی کی گئی۔ جس کے سبب حرکت کرنے والوں کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔ تاہم مقامی عوام نے مسجد کے قریب سے چند شواہد کو اکٹھا کیا ہے۔ جس سے اِن شبہات میں اضافہ ہوتا ہے کہ یہ حرکت فوج کی جانب سے کی گئی۔ تاہم اس کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ اس واقعہ کی اطلاع کے بعد قائد مجلس بچاؤ تحریک امجد اللہ خان خالد نے نیک نام پور علاقہ کا دورہ کیا اور مسجد کی تعمیر میں رکاوٹ پر سخت احتجاج کیا۔ انھوں نے مقامی عوام سے بات چیت کی اور حالات کا جائزہ لیا۔ اس دوران مسجد کے دروازہ پر ایک نوٹس بھی لگائی گئی۔ امجد اللہ خان نے چیف منسٹر کے سی آر، ریاستی وزیر کے ٹی آر اور وزیرداخلہ محمود علی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدام کرتے ہوئے خاطیوں کا پتہ چلائے۔ انھوں نے کہاکہ مسجد کی تعمیر کے لئے پولیس اور ملٹری کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ نیک نام پور علاقہ میں مسجد کی تعمیر کے لئے ایوب خان نے اراضی کا عطیہ دیا۔ امجد اللہ خان نے بتایا کہ 10 سال سے اس مقام پر مسجد قائم ہے اور ٹین شیڈ میں موجود ہے۔ اس کی پکی تعمیر کے لئے اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مسجد کی تعمیر کے لئے نصب کردہ پلرس کو بلیڈس سے کاٹ کر پلروں کو منہدم کیا گیا۔ انھوں نے کہاکہ مسجد کے مقام سے حاصل شدہ شواہد سے اور استعمال کی جانے والی اشیاء سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ حرکت کس نے کی اور مسجد کے دروازے کے قریب نصب کردہ نوٹس سے بھی علم ہوگیا ہے۔ تاہم پلاٹ کے مالک نے کسی بھی قسم کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ انھوں نے مسجد کی پکی تعمیر کے لئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہاکہ نیک نام پور علاقہ میں مسجد کے ساتھ اس طرح کی حرکت حکومت کی نیک نامی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ جامع تحقیقات کرواتے ہوئے خاطیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور مسجد کی پکی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے۔