حالات بحال ہونے مزید وقت درکار ، تجارت پیشہ افراد کو محتاط رہنے ماہرین معاشیات کا مشورہ
حیدرآباد۔ملک بھر میں معاشی حالات کو بہتر ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے اور ریاست تلنگانہ کے معاشی حالات کی بہتری میں بھی کافی وقت لگ سکتا ہے اور جاریہ سال کے اختتام تک معاشی صورتحال میں بہتری کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں جو صورتحال دیکھی جا رہی ہے اس کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ کورونا وائرس کے سبب کئے گئے لاک ڈاؤن کے علاوہ اس کے بعد ملازمتوں کی صورتحال اور صنعتوں میں جاری پیداوار میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور اگر آئندہ 2 تا 3 ماہ کے دوران صورتحال تبدیل نہیں ہوتی ہے تو اس کے مزید ابتر نتائج برآمد ہونے لگ جائیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ آئندہ 3تا6ماہ ماہرین معاشیات کی نظر میں انتہائی اہم ہیں اور ان حالات میں شہریوں کو خرچ ‘سرمایہ کاری اور آمدنی پر گہری نگاہ رکھتے ہوئے بچت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ صنعتی اداروں کے علاوہ تجارتی اداروں میں ریکارڈ کی جانے والی پیداوار اور فروخت میں گراوٹ کے علاوہ عوام کے اخراجات میں ہونے والے اضافہ سے اس بات کا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران حالات انتہائی سنگین نوعیت اختیار کریں گے اور ان حالات میں ملازمت پیشہ افراد کے علاوہ تجارت پیشہ افراد کو بھی کافی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ریاست تلنگانہ کی معیشت کے متعلق ماہرین کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ کی معیشت کا بڑا انحصار صنعتی اداروں میں ہونے والی پیداوار‘ زرعی پیداوار ‘
انفارمیشن ٹکنالوجی صنعت کے علاوہ سیاحت پر ہے اور موجودہ حالات میں کسی بھی شعبہ میں فوری بہتری کے کوئی آثار نہیں ہیں اسی لئے ریاستی حکومت کی جانب سے ذرائع آمدنی میں اضافہ کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ہندستان میں پیدا ہونے والی معاشی انحطاط کی صورتحال کے راست اثرات عوام پر مرتب ہونے کے سلسلہ میں ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جب حکومت چلانے کے لئے حکومت کے پاس مالیہ نہیں ہوگا تو ایسے میں حکومت عوام کے مالیہ پر انحصار کرے گی اور عوام کے پاس موجود دولت کو مختلف طریقوں سے حاصل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی اسی لئے عوام کو محتاط رہتے ہوئے اخراجات پر قابو کرنے کے علاوہ آمدنی میں اضافہ کے لئے توجہ دینی چاہئے اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب ملازمت پیشہ افراد اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ تجارتی امور کی انجام دہی اور عصری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے نئے میدان کا رخ کرتے ہیں۔