فرضی ڈاکٹرس کا علاج اور سوشیل میڈیا کے ادویات خطرہ جان
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کے علاج کیلئے قابل اور بااعتماد ڈاکٹرس سے ادویات تجویز کروائیں اور فرضی ڈاکٹرس کی جانب سے دی جانے والی ادویات سے اجتناب کرنے کے علاوہ واٹس ایپ اور فیس بک پر گشت کرنے والے ادویات کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ اضافی مقدار میں زنک کے استعمال سے بھی بلیک فنگس ہونے کے علاوہ غیر ضروری اسٹیرائیڈس بلیک فنگس کی وجہ بن سکتے ہیں ۔ ماہر اطباء نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی ادویات کا استعمال فوری ترک کردیں جو کہ فیس بک یا واٹس ایپ کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر گشت کررہی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں کوروناوائرس کی دہشت کے ساتھ اب بلیک فنگس کی دہشت کے ساتھ اس پر تحقیق کا عمل شروع کیا جاچکا ہے اور کہا جار ہاہے کہ متعدد مرتبہ ماہر اطباء کی جانب سے فرضی ڈاکٹرس اور معالج کے علاوہ سوشل میڈیا پر گشت کی جانے والی ادویات سے اعتراض کرنے کی اپیل کے باوجود اب بھی جلد علاج کی چکر میں ایسے ڈاکٹرس اور معالج کے سے مریض رجوع ہورہے ہیں جو کہ ابتداء میں ہی مریضوں کو اسٹیرائیڈس دیتے ہوئے انہیں صحت مند بنانے کے دعوے کر رہے ہیں جبکہ اسٹیرائیڈس کا غیر درست استعمال مریضوں کی صحت پر مضر اثرات کا سبب بن سکتا ہے ۔ ماہر اطباء کے مطابق مریض کو ادویات کی تجویز میں ڈاکٹرس ان کی عمر اور صحت کے علاوہ ان کے وزن کو دیکھتے ہوئے ادویات تجویز کرتے ہیں اسی لئے ایک مریض کے لئے تجویز کردہ ادویات ضروری نہیں ہے کہ دوسرے مریض کو بھی وہی ادویات کارکرد ثابت ہوں اسی لئے کسی ایک مریض کے لئے تجویز کی گئی ادویات کا کئی افراد کی جانب سے استعمال کیا جانا درست نہیں ہے۔گذشتہ یوم ایک تحقیق میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ بلیک فنگس کی بنیادی وجوہات میں ایک اہم وجہ اضافی مقدار بالخصوص روزانہ کے اساس پر زنک کا استعمال بھی ہوسکتی ہے اور ماہرسائنسداں اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں ۔کورونا وائرس کی وباء کے ساتھ ہی بعض ڈاکٹرس اور دواخانوں کی جانب سے مریضوںکو تجویز کردہ ادویات کی فہرست سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگی تھی اور ان ادویات کا بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے طور پر استعمال شروع کردیا تھا اس کے علاوہ دوسری لہر کے دوران فرضی ڈاکٹرس اور معالج نے اسٹیرائیڈس کے ذریعہ علاج کے طریقہ کو آسان تصور کرتے ہوئے اس کا استعمال شروع کردیا اسی لئے اب یہ حالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ اسٹیرائیڈس کا استعمال کرنے والے ڈاکٹرس کی جانب سے مریضوں کو یہ نہیں بتایا جا رہاہے کہ وہ انہیں کونسے انجکشن یا ادویات تحریر کر رہے ہیں اور پوچھنے پر کہا جار ہاہے کہ اگر انہیں یہ جاننا ہے تو کہیں اور علاج کروالیں ۔ ماہر اطباء نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا وائرس کی علامات کی صورت میں جلد علاج کے بجائے اطمینان بخش علاج کو ترجیح دیں اور ماہرین اور قابل ڈاکٹرس سے ہی علاج کروائیں تاکہ علاج کے بعد انہیں دیگر مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔