نئی دہلی :کانگریس نے ایک بار پھر لوک سبھا انتخاب 2024 کے ووٹ فیصد اور نتائج کو لے کر الیکشن کمیشن سے سوال کیا ہے۔ اپوزیشن پارٹی نے یہ معاملہ ’وائس آف ڈیموکریسی‘ کی ایک تازہ رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا ہے اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس رپورٹ سے پیدا سوالات کے جواب دے۔اس معاملے میں کانگریس کے سینئر لیڈر سندیپ دیکشت نے ایک پریس کانفرنس کیا جس میں بتایا کہ ’’وائس آف ڈیموکریسی نام کے ادارہ نے حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابی نتائج پر ایک تجزیہ کیا ہے۔ تجزیہ کے مطابق شروعاتی مرحلہ میں اعلان کردہ (ووٹنگ فیصد کے) اعداد و شمار اور آخری مرحلہ میں حتمی اعداد و شمار میں فرق ہے۔ قومی سطح پر بتائے گئے اعداد و شمار اور آخری اعداد و شمار میں اگر 6 فیصد کا فرق ہے تو کیا یہ (انتخابی) نتائج درست تھے۔سندیپ دیکشت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہر مرحلہ سے کئی دن بعد ووٹنگ کا حتمی فیصد جاری کیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ای وی ایم سے جب ووٹنگ شروع ہوتی ہے تو ہر دو گھنٹے میں الیکشن کمیشن کو اعداد و شمار بھیجنے ہوتے ہیں کہ بوتھ پر کتنی ووٹنگ ہوئی ہے۔ اگر ہم ریاستوں کی سطح پر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ حیرت انگیز طریقے سے آندھرا پردیش اور اوڈیشہ میں پہلے جاری کیے گئے نمبر اور حتمی طور پر جاری کیے گئے نمبر میں 12.5 فیصد ووٹوں کا فرق ہو جاتا ہے۔ اتفاق یہ ہے کہ اڈیشہ اور آندھرا پردیش میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے انتخاب میں اچھا کیا۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ای وی ایم کے زمانے میں اعداد و شمار میں ایسا فرق پورے انتخابی عمل پر سوال کھڑے کرتا ہے۔