وائٹ ہاؤس کے سامنے افغان شہریوں کا مظاہرہ

   

واشنگٹن : امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے سامنے افغان شہریوں اور افغان نڑاد امریکی شہریوں سمیت مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے طالبان مخالف بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔مظاہرین نے افغانستان میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں تشویش ظاہر کی اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ انخلا وقت سے پہلے کیا گیا ہے۔افغان نژاد امریکی شہری مختار نے وائس آف امریکہ کی رشئین سروس سے بات کرتے ہوئے طالبان کی جانب سے کابل کا دوبارہ کنٹرول سنبھالنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ لوگوں کو اپنے عزیزوں کیلئے روتے دیکھ رہے ہیں، ماؤں کو اپنے بیٹوں کے لیے روتے دیکھ رہے ہیں تو انہیں تکلیف محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جلد ہی پاکستان افغانستان میں تشکیل پانے والے نئے سیٹ اپ کے ساتھ امن کے بہانے سمجھوتہ کر لے گا اور افغانستان بقول ان کے ’’پاکستان نمبر دو بنا دیا جائے گا۔‘‘انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان مستقبل میں دہشت گردی کا مرکز بن سکتا ہے۔مظاہرین میں شامل مونیکا ہاشم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات بالکل 80کی دہائی کی طرح محسوس ہوتے ہیں جب امریکہ نے افغانستان کے معاملات میں دخل دیا اور پھر افغانوں کا اکیلا چھوڑ دیا۔