امریکی صدارتی انتخاب میں کانٹے کی ٹکر
واشنگٹن: امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج نازک مرحلہ میں پہنچ گئے ہیں۔ ایک طرف ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے حریف جوبائیڈن کے درمیان کئی اہم ریاستوں میں کانٹے کی ٹکر چل رہی ہے۔ ریپبلکن امیدوار صدر ٹرمپ نے اپنی جیت کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی قسم کھائی ہیکہ وہ اپنی ہار کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں دھاندلیوں کا جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے۔ قبل ازیں ڈیموکریٹک امیدوار بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ کامیابی کی دہلیز پار کرچکے ہیں۔ امریکہ کی 6 ریاستوں میں رائے دہی مکمل ہوئی ہے تاہم لاکھوں ووٹس کی گنتی باقی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی امیدوار ابھی تک اپنی کامیابی کا قابل اعتبار دعویٰ نہیں کرسکتا۔ انتخابات میں کسی قسم کی دھاندلیوں کا بھی ثبوت نہیں ہے۔ پورا ملک تجسس کا شکار ہے۔ امریکہ کے قطعی نتائج آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ زائد از 10 کروڑ امریکیوں نے یوم رائے دہی سے قبل ہی ارلی ووٹنگ میں حصہ لیکر اپنے حق ووٹ سے استفادہ کیا تھا۔ اس رائے دہی کو امریکہ کی سب سے زیادہ رائے دہی قرار دیا جارہا ہے۔ اب تک آنے والے نتائج کے مطابق صدر ٹرمپ نے ماقبل انتخابات پیش قیاسیوں کی تردید کی لیکن بائیڈن ہنوز وائیٹ ہاؤس کی دوڑ میں موجود ہیں۔ ابھی تک کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ صدر کو منتخب کرنے کیلئے کسی ایک امیدوار کو کم از کم 270 ووٹ حاصل کرنے ہوں گے۔ اسے الیکٹورل کالج کہا جاتا ہے۔ ٹرمپ کو فلوریڈا اور ٹیکساس میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ بائیڈن نے اریزونا میں یہ سیٹ چھین لی جو کبھی کنزرویٹیو اسٹیٹ کہلاتا تھا۔ اصل مقابلہ پنسلوانیا، مشیگن اور وسکنسن میں ہے یہاں کے نتائج سے ہی صدر ٹرمپ آئندہ چار سال کیلئے وائیٹ ہاؤس پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ کو پنسلوانیا میں کامیاب ہونا ضروری ہے۔ دیگر اہم ریاستوں میں جارجیا اور کرلونیا ہیں۔ ٹرمپ نے اوہائیو اور مسوری میں اپنا موقف مضبوط رکھیں گے۔ ٹرمپ نے نبرسکا میں بھی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ جنوبی کیرلونیا، جارجیا ،انڈیانا، کنیٹکی، ورمونٹ اور ورجینیا میں رائے دہی مکمل ہوگئی ہے۔ فلوریڈا اور نیوہمپشائر میں پولنگ بھی مکمل ہوئی۔ جوبائیڈن نے کہا کہ ہم یہ انتخابی بہرحال جیت رہے ہیں۔ امریکی عوام سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ فتح کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کے جواب میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی جیت کا اعلان کردیا ہے۔ وائیٹ ہاوس میں اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ میں اپنے طور پر الیکشن جیت چکا ہوں اور ایک شاندار فتح حاصل ہوچکی ہے۔ امریکی عوام کا یہ فیصلہ ہیکہ میں وائیٹ ہاؤس میں مزید چار سال خدمت انجام دوں۔ اسی دوران ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوبائیڈن اب بھی ریپبلکن امیدوار صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مقابل ابتدائی برتری حاصل رکھے ہوئے ہیں۔
نتائج اگر ’ٹائی ‘ ہوں تو کیا ہوگا؟
امریکی صدارتی انتخاب کے دونوں امیدواروں میں سے ہر ایک کو اگر 269 الیکٹورل ووٹ حاصل ہوں تو ایوان نمائندگان اپنے ووٹ کے ذریعہ صدر کا فیصلہ کرے گا۔ ہر ایک ریاست کا وفد کا ایک ووٹ ہوگا۔ سینیٹ کی طرف سے نائب صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔ اگر امریکی کانگریس نے 20 جنوری تک صدر یا نائب صدر کی جیت کا اعلان نہ کرے تو ایوان کے اسپیکر کارگذار صدر کی حیثیت سے خدمت انجام دیں گے۔