وائی ایس آر کانگریس حکومت پر اپوزیشن قائدین کو ہراساں کرنے کا الزام

   

سیاسی انتقامی کارروائیوں پر روک لگانے پر زور ، گورنر سے چندرا بابو کی وفد کے ساتھ نمائندگی

حیدرآباد /19 ستمبر ( سیاست نیوز ) ریاست آندھراپردیش کی اپوزیشن تلگودیشم پارٹی کے ایک وفد نے آج قومی صدر تلگودیشم پارٹی و قائد اپوزیشن اے پی اسمبلی این چندرا بابو نائیڈو کی قیادت میں گورنر وشوا بھوشن ہری چندن سے ملاقات کرکے وائی ایس آر کانگریس حکومت کے 100 دن کے دور اقتدار میں اپوزیشن قائدین و کارکنوں کو ہراساں کرنے اور فرضی کیسیس درج کرنے کے علاوہ دو دن قبل سابق اسپیکراسمبلی ڈاکٹر کے سیوا پرساد راؤ کے پیش آئے خودکشی واقعہ کی اصل وجوہات کی مکمل تفصیلات سے واقف کروایا ۔ وفد میں مسرس چندرا بابو نائیڈو کے علاوہ کلا وینکٹ راؤ صدر ریاستی تلگودیشم پارٹی آندھراپردیش و سابق وزیر این چندرا جیا سابق ڈپٹی چیف منسٹر این لوکیش جنرل سکریٹری قومی تلگودیشم و سابق وزیر ڈی اوما مہیشور راؤ سابق وزیر کے اچن نائیڈو سابق وزیر بی وینکنا ، اشوک بابو ، این راما نائیڈو ، کرنم بلرام ، این آنند بابو ، وی رامیا ، وائی راجیندر پرساد و دیگر قائدین شامل تھے ۔ گورنر سے چندرا بابو نائیڈو نے حکومت کی سیاسی انتقامی کارروائیوں ، اپوزیشن تلگودیشم پارٹی قائدین کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کے علاوہ ڈاکٹر کے سیوا پرساد راؤ کو خودکشی کرلینے پر مجبور کرنے سے متعلق تفصیلات سے واقف کروایا اور 13 صفحات پر مشتمل یادداشت کو پیش کیا ۔ چندرا بابو نے سیوا پرساد راؤ کے خودکشی واقعہ کو ایک کیس اسٹیڈی ‘‘ سے تعبیر کیا ۔ حکومت کے غیر منصفانہ سیاسی انتقامی کارروائیوں کے اقدامات کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی ۔ بعد ازاں چندرا بابو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے صورتحال ابتر ہوچکی ہے اور بالخصوص پولیس چیف منسٹر جگن موہن ریڈی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے اپوزیشن قائدین کو نہ صرف ہراساں کر رہی ہے بلکہ فرضی کیسیس درج کرواکر خوف زدہ کر رہی ہے ۔