عدالت نے 14 دن کی تحویل میں دیدیا ۔ چنچل گوڑہ خواتین کی جیل کو منتقلی
حیدرآباد 24 اپریل ( سیاست نیوز) وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی قائد وائی ایس شرمیلا کو بنجارہ ہلز پولیس نے پولیس ملازمین کو زدوکوب کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔ بعد ازاں عدالت نے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں چنچل گوڑہ خواتین کی جیل بھیج دیا ۔ شرمیلا آج صبح تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن پرچہ افشاء کیس کے خلاف ایس آئی ٹی کے دفتر پہنچ کر احتجاج کا منصوبہ رکھتی تھی اور بنجارہ ہلز کی رہائش گاہ سے روانہ ہورہی تھی کہ انہیں بنجارہ ہلز پولیس ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا ۔ اس دوران شرمیلا کی گاڑی کے ڈرائیور نے اپنی کار کو نہ روکتے ہوئے پولیس عملہ پر گاڑی چڑھا نے کی کوشش کی ، بعد ازاں پولیس گاڑی کو روک کر اُن کے خلاف کارروائی کرکے حراست میں لینے والے تھے کہ شرمیلا نے بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک پولیس سب انسپکٹر کو طمانچہ رسید کردیا اور دیگر پولیس کانسٹبلس کو بھی زدوکوب کیا ۔ اس سلسلہ میں بنجارہ ہلز پولیس نے انہیں فوری گاڑی میں پولیس اسٹیشن منتقل کیا اور انکے خلاف تعزیرات ہند کے دفعہ 353 ، 332 ، 509 اور 427 کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا ۔ شرمیلا کو پولیس نے پہلے طبی معائنہ کیلئے سرکاری ہاسپٹل منتقل کیا ، بعد ازاں انہیں نامپلی میٹرو پولیٹن کورٹ میں پیش کیا گیا ۔ بتایا گیا کہ پولیس نے شرمیلا کے ڈرائیور کے خلاف بھی پولیس پر گاڑی چڑھادینے کا مقدمہ بھی درج کیا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ویسٹ زون جیول ڈیوس نے کہا کہ انہیں آج صبح یہ اطلاع ملی کہ وائی ایس آر ٹی پی کی قائد وائی ایس شرمیلا بغیر کوئی اجازت کے ٹی ایس پی ایس سی پرچہ افشاء کیس کے خلاف ایس آئی ٹی دفتر پہنچ کر احتجاج کا منصوبہ رکھتی ہے اور اسے ناکام بنانے قبل از وقت پولیس فورس کو ان کی رہائش گاہ کے قریب متعین کردیا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔ اس میں پولیس کانسٹبل گری بابو زخمی ہوگیا ۔ بیٹی کی گرفتاری کے بعد اپنی رہائش گاہ سے احتجاج کیلئے نکلنے والی وائی ایس شرمیلا کی والدہ وائی ایس وجیہ اماں کو بھی جوبلی ہلز پولیس نے روک لیا جہاں انہوں نے ایک خاتون پولیس کانسٹبل کو طمانچہ رسید کیا ۔ یہ ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس کے بعد پولیس نے وجیہ اماں کو دوبارہ ان کے مکان بھیج دیا ۔ پولیس تحقیقات کررہی ہے ۔ ب