مسلسل بند اور مواصلاتی نظام کی معطلی کے سبب والدین بچوں کے بارے میں فکرمند
سرینگر ۔9اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں چہارشنبہ سے تمام کالجوں کی دوبارہ کشادگی کیلئے ریاستی انتظامیہ کی تمام تر کوششیں آج ناکام ہوگئی جب اس علاقہ کے تمام کالجس کو کھول دیئے گئے لیکن طلبہ اپنی کلاسیس غائب رہے ۔ جموں و کشمیر کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی دستوری دفعہ 370 کی تنسیخ اور اس ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے مرکز کی طرف سے 5اگست کو کئے گئے فیصلہ کے بعد وادی کشمیر میں مسلسل بند جاری ہے ۔ جس کے نتیجہ میں عام زندگی 66دن سے مفلوج رہی ہے ۔ کشمیر کے ڈیویژنل کمشنر بصیر خان نے گذشتہ ہفتہ اعلان کیا تھا کہ تمام اسکولس 3اکٹوبر سے اور تمام کالجس 9اکٹوبر سے دوبارہ کھولے جائیں گے ۔ عہدیداروں نے کہا کہ کالجوں کی آج دوبارہ کشادگی کے بعد اسٹاف تو کام پر رجوع ہوا لیکن طلبہ اپنی جماعتوں میں حاضر نہیں ہوسکے ۔ اس طرح انتظامیہ کی لاکھ کوششوں کے باوجود اسکولس میں بھی طلبہ کی حاضری ممکن نہیں ہوسکی ہے ۔طلبہ کے والدین و سرپرست اپنے بچوں کو اسکول و کالجس بھیجنے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ ان کے تحفظ و سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں ۔ کیونکہ مسلسل بند اور مواصلاتی نظام کی معطلی کے سبب ہر طرف غیریقینی پھیلی ہوئی ہیں ۔ وادی میں لگاتار 66ویں دن بھی عام زندگی مفلوج رہی ، سڑکوں سے سرکاری ٹرانسپورٹ گاڑیاں غائب رہیں لیکن لال چوک اور اطراف کے علاقوں میں واقع تجارتی مراکز میں خانگی گاڑیوں کی کثیر تعداد کے سبب ٹریفک جام دیکھی گئی