’’وادی ٔ گلوان چینی سرحد میں ہے‘‘ چین کا دعویٰ بدستور برقرار

,

   

دونوں فریق کے بیانات میں نمایاں فرق ، اجیت ڈوول اور وانگ ژئی کے درمیان مذاکرات کے باوجود اصل تنازعہ ہنوز جاری

نئی دہلی۔ ہندوستان اور چین نے سرحدی تنازعہ کے بیج اسٹرٹیجک بات چیت کی سطح میں تبدیلی کی ہے۔ اس معاملے کو لے کر اب ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول اور چینی وزیر خارجہ وانگ ژئی نے ایک دوسرے سے فون پر بات کی حالانکہ اس سلسلے میں جاری کئے گئے بیانات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ کی کھائی ابھی بھی چوڑی بنی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو روزانہ کی اپنی بریفنگ کے دوران کہا کہ دونوں فریق سرحد پر حالات کو سدھارنے اور آسان بنانے میں موثر قدم اٹھا رہے ہیں حالانکہ متنازعہ مقام پینگانگ جھیل پر چینی فوج کی پوزیشن میں ابھی بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔دونوں فریق کے بیانات میں نمایاں فرق بھی تھے۔ ہندوستانی بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں خصوصی نمائندوں نے اطمینان دلایا ہے کہ ہندوستان اور چین کو ایل اے سی کا سختی سے احترام کرنا چاہئے اور صورتحال کو بدلنے کیلئے ایک طرفہ کارروائی نہیں کرنی چاہئے۔ جبکہ چین کے بیان میں سرحدی علاقوں میں آگے ایسے واقعات سے بچنے کیلئے مواصلات اور اعتماد سازی کی تدابیر کو مضبوط کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ایل اے سی یا اس کی صورتحال کو بنائے رکھنے کی ضرورت کا کوئی نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے بجائے وانگ نے واضح طور پر اعادہ کیا کہ گلوان وادی میں پرتشدد جھڑپ کے لئے چین ذمہ دار نہیں تھا

اور اپنے دعوے پر زور دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین، ہندوستان سرحد کے مغربی علاقے میں گلوان وادی میں حال ہی میں جو ہوا، اس میں صحیح اور غلط کیا ہے، یہ بہت صاف ہے۔ چین اپنی خطے کی سالمیت کی سلامتی اور سرحدی علاقوں میں امن و امان کی حفاظت کرنا جاری رکھے گا۔ چین نے پوری گلوان وادی پر اپنا اختیار بتایا ہے جو چین کی جانب سے سال 1960ء میں کئے گئے دعوے کے برعکس ہے۔ چین نے ہندوستان کو گلوان کھائی میں پرتشدد جھڑپوں کے سخت نتائج کی وارننگ بھی دی تھی۔ وہیں ہندوستان نے کہا تھا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چین نے ایل اے سی پر فوج کی ایک بڑی ٹکڑی کو اکٹھا کیا تھا اور سبھی سمجھوتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستانی گشت میں رکاوٹ ڈالی تھی۔ چینی بیان میں گزشتہ پیر کو کہا گیا ہے کہ دونوں فریق ملکوں کی جانب سے دستخط شدہ معاہدوں پر عمل کریں گے اور سرحدی علاقوں میں صورتحال کو آسان بنانے کیلئے مشترکہ کوشش کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ اجیت ڈوول نے وانگ ژئی کے ساتھ اپنی دو گھنٹے کی بات چیت کے دوران طئے وقت اور براہ راست کارروائی پر زور دیا۔ حکام نے پیر کو یہ جانکاری دی۔ ہندوستان۔ چین سرحدی تنازعہ پر 1968ء بیچ کے ایک آئی پی ایس افسر ڈوول ہندوستان کی جانب سے خصوصی نمائندہ بنائے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ بات چیت کا بنیادی موضوع امن و امان کی بحالی اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کیلئے بہتر تال میل بنانا تھا۔