وادی کشمیرمیں موبائل، انٹرنٹ ہنوز مسدود۔ تجارتی مراکز بند

,

   

سری نگر ۔ 31 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے حکام نے بتیا کہ جمعہ کی نماز کے لئے لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو روکنے کیلئے مزید تحدیدات کے ایک دن بات ہفتہ کے دن کشمیر کے بہت سے حصوں سے پابندیاں اٹھالی گئیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سے علاقوں میں یہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں، انہیں بھی ہٹالیا گیا تاکہ لوگوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو لیکن صیانتی افواج کی تعیناتی کا سلسلہ جاری رہا تاکہ نظم و نسق کو برقرار رکھا جاسکے ۔ بعض متعلقہ عہدیداروں ن ے بتایا کہ جمعہ کے دن صورتحال پرامن رہی کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا اور نہ ہی وادی کے کسی بھی حصے سے ایسے کسی واقعہ کی اطلاع وصول ہوئی ۔ اس کے باوجود بھی وادی میں عام زندگی 27 ویں دن بھی متاثر رہی ۔ بازار بند پائے گئے اور سرکاری بسوں کی آمد و رفت بھی ٹھپ رہی اور اسکول بھی بند رہے۔ صورتحال میں بہتری کے پیش نظر وادی کے بہت سے حصوں میں زمینی ٹیلی فون کے رابطوں کو بحال کردیا گیا ۔ لال چوک اور پریس انکلیو کے تجارتی مراکز میں خدمات مسدود رہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائیل خدمات بھی معطل رہیں۔

وادی میں بند ، اسرائیلی سیاح لیہہ میں مصروف
لیہہ ۔ /31 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں بند کے سبب سیر و سیاحت کے منصوبوں کو منسوخ کرنے پر مجبور اسرائیلی سیاحوں کی کثیرتعداد اب لیہہ کے سارے علاقہ میں سڑکوں سے لے کر ہوٹلوں تک اور رستورانوں سے بودھ راہبوں کی خانقاہوں تک ہر مقام کی سیر کرتے ہوئے اپنے سفر سے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔ چنانچہ لیہہ کے بازاروں اور عام مقامات پر جگہ جگہ لداخی اور عبری (اسرائیلی) زبانیں بولی اور سنی جارہی ہیں ۔ اکثر دکانوں کو بھی اسرائیلی سیاحوں اور گاہکوں کے مزاج کے مطابق ضروریات کے ساز و سامان سے آراستہ کیا گیا ہے کیونکہ اسرائیلی سیاحوں کی کثیر تعداد بدستور لیہہ میں مقیم ہے ۔ وادی میں تقریباً ایک ماہ سے جاری بند کے سبب اسرائیلی سیاح وادی کی سیر کے منصوبے منسوخ کرنے پر مجبور ہوگئے تھے اور لیہہ میں کیمپ کئے ہوئے ہیں اور یہ پہاڑی شہر اسرائیلی مزاج سے کافی یکسانیت و مماثلت رکھتا ہے ۔ اسرائیلی شہر حیف کی شہری 23 سالہ عائیلت ھود اور ان کے شوہر 23 سالہ نتائی مود، جو دونوں ہی کٹر قدامت پسند یہودی ہیں ، پہلی مرتبہ ہندوستان کے سفر پر پہنچے ہیں۔ اس صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ وادی کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں ہیں اور وہاں کا ماحول موجودہ طور پر سیاحوں کیلئے سازگار نہیں ہے۔ تاہم حکومت مسلسل دعوے کئے جارہی ہے کہ وادی میں سب کچھ ٹھیک ہے!