پاکستانی فوج کا ہندوستانی فوجی چوکیوں پر حملہ ، پونچھ کے خطہ قبضہ کے قریب دیہات نشانہ
سرینگر ۔ 29ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) فوج نے اپنی جاسوسی سرگرمیوں میں شدت پیدا کردی ہے اور اس کے ساتھ ہی فوج پر دستی بم حملوں سے پرانے شہر کی حدود میں حملوں کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایک سینئر فوجی عہدیدار نے کہا کہ انسداد شورش پسندی کارروائی شدیدکردی گئی ہے ، تاکہ عسکریت پسندوں کے منصوبہ بند حملوں کو کسی مرحلہ پرناکام بنایا جاسکے اور انہیں فوج پر وادی کشمیر میں حملے کرنے کی جرات نہ ہو ۔ انسداد شورش پسندی کارروائی نہ صرف وادی کشمیرمیں جاری کارروائی کا ایک حصہ ہے بلکہ عسکریت پسندوں کے منصوبوں کو موجودہ مرحلہ پر ہی ناکام بنانے کا ایک حصہ ہے ۔ عہدیدار نے کہا کہ یہ کارروائیاں 5اگست کے بعد بھی جاری ہیں جبکہ مرکز نے ریاست جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ نفاذ قانون محکموں کی اولین ترجیح وادی میں امن کی بحالی بن چکی ہے ۔ صورتحال زیادہ کشیدہ ہونے کے بعد نظم و ضبط کے محاظ پر صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے مخالف دہشت گردی کارروائیاں شدید کردی گئی ہیں تاکہ فوج پر عسکریت پسند مزید حملے نہ کرسکیں ۔ فوج اپنی پریڈ کے دوران جو اہم تنصیبات کے اطراف کی جارہی ہے بشمول سرینگر ایئرپورٹ اور پولیس کے دفاتر کے ایک حصہ کے طور پر یہ کارروائیاں جاری ہیں ۔ مزید فوجی تہہ خانے کھودے جارہے ہیں ۔ فوج کے معیار میں سختی پیدا کی جارہی ہے ۔
جن اضلاع میں صورتحال مخدوش ہے ، خاردار تار نصب کئے جارہے ہیں ۔ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دوران پاکستانی فوج نے اتوار کے دن جموں و کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں خطہ قبضہ کے قریب واقع دیہاتی فوجی چوکیوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ۔ یہ حملے تقریباً رات 3:15 بجے بلااشتعال شروع ہوئے تھے ۔ ہلکے اسلحہ سے فائرنگ اور مارٹر شل باری کی گئی ۔ مندھر سیکٹر میں بالاکوٹ کے مقام پر فائرنگ ہوئی ۔ فوج کے عہدیدار نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے منہ توڑ جواب دیا اور کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ سرحد پار سے شل باری کا اعادہ بھی نہیں کیا گیا ۔