سماج وادی پارٹی لیڈر اکھلیش کی نشاندہی پر آفیسر معطل، بی جے پی ذمہ داری لینے تیار نہیں
وارانسی : اترپردیش میں وارانسی کے کمشنر دیپک اگروال کو اسمبلی الیکشن کے نتائج کے اعلان سے ایک روز قبل آج چہارشنبہ کو ڈیوٹی سے معطل کردیا گیا۔ یہ کارروائی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کی منتقلی کے دوران پروٹوکول میں کوتاہی کے الزامات پر کی گئی ہے۔ الزامات عائد کئے جانے پر دیپک نے میڈیا سے بات کی اور عملاً اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ جن ووٹنگ مشینوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ صرف ٹریننگ کے مقاصد کیلئے ہیں۔ گذشتہ روز سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا تھا کہ وارانسی میں ای وی ایمس کی ایک ٹرک میں منتقلی کو روکا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ برسراقتدار بی جے پی ووٹوں کی ’’چوری‘‘ کرنے کوشاں ہے۔ سماج وادی پارٹی نے اپنے ٹوئیٹر پر بتایا کہ متعلقہ عہدیدار نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا ہے اور اسے معطل کیا جاچکا ہے۔ اگروال نے کہا کہ ای وی ایمس کے ٹرانسپورٹ کیلئے مقررہ پروٹوکول کی بات کی جائے تو بلاشبہ پروٹوکول میں کوتاہی ہوئی۔ میں اسے قبول کرونگا لیکن میں آپ کو ضمانت دے سکتا ہوں کہ ووٹنگ میں استعمال کئے گئے مشینوں کو کہیں بھی لے جانا ناممکن ہے۔ انہوں نے اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی کہ کاؤنٹنگ سنٹرس پر سی سی ٹی وی کیمرے، سیکوریٹی گارڈس اور تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندے موجود ہیں۔ وارانسی کے ضلع نظم و نسق نے کہا کہ تربیت کے مقاصد کیلئے موجود ووٹنگ مشینوں کو ٹرک میں منتقل کیا جارہا تھا، جسے بعض سیاسی کارکنوں نے روکا اور افواہیں پھیلادی کہ یہ مشینیں حالیہ اختتام پذیر چناؤ میں استعمال کئے گئے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے لکھنؤ کے اسمبلی حلقہ سروجنی نگر کے ایس پی امیدوار ابھیشیک مشرا کے حوالہ سے کہا کہ انہوں نے سرکاری افسر دیپک کے تبصروں پر سوال اٹھائے ہیں۔ مشرا نے تعجب ظاہر کیا کہ ووٹنگ مشینیں وارانسی میں ایک ، دو گھنٹے سڑک پر پڑے رہے۔ کس طرح ڈی ایم اور پولیس انہیں چھوڑ کر بھاگ سکتے ہیں؟ انہیں معطل کیوں نہیں کیا گیا؟ الیکشن کمیشن کو اس معاملہ کا نوٹ لیتے ہوئے ڈی ایم کو معطل کردینا چاہئے۔ کیا ٹریننگ صرف وارانسی میں ہوئی کیونکہ یہ پی ایم کا حلقہ ہے۔ اگر یہ منتقلی ٹریننگ کے سلسلہ میں تھی تو تمام امیدواروں کو مطلع کیا جانا چاہئے تھا۔
