ترجمان پردیش کانگریس جی نرنجن کا مطالبہ
حیدرآباد۔/22 فبروری، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان جی نرنجن نے اشتعال انگیز تقریر کیلئے سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان کو مجلس سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر مجلس اسد اویسی کو محاسبہ کرنا چاہیئے کہ ان کی تقاریر میں عوام قوم دشمن نعروں کے ذریعہ کیونکر جذباتی ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی نے اپنے پارٹی لیڈر وارث پٹھان کی نفرت انگیز تقریر کو روکنے کی کوشش نہیں کی جس طرح انہوں نے خاتون کو پاکستان کے حق میں نعرے لگانے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ نرنجن نے کہا کہ اسد اویسی کو چاہیئے تھا کہ وہ وارث پٹھان کی تقریر کی مذمت کرنے کیلئے اپنی نشست سے اُٹھ کھڑے ہوتے، اگر اسد اویسی دلت ، پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں چاہیئے تھا کہ وارث کو پارٹی سے خارج کرتے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر مجلس کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ چند برس قبل اکبر اویسی نے اسی طرح کی تقریر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس و ریاستی حکومت خاموش تماشائی کا رول ادا کررہی ہے۔ نرنجن نے کہا کہ عوام کو سوچنا ہوگا کہ ٹی آر ایس حکومت میں وہ کس قدر محفوظ ہیں کیونکہ حکومت کا اسٹیرنگ مجلس کے ہاتھ میں ہے۔ کے سی آر نے اکبر اویسی کی نمائندگی پر حال ہی میں جو فیصلے کئے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت مجلس کے اشاروں پر کام کررہی ہے۔