وارڈس کی حد بندی اور تحفظات میں بے قاعدگیاں: ششی دھر ریڈی

   

Ferty9 Clinic

عجلت پسندی کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش، کانگریس الیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس

حیدرآباد۔/13 جولائی، ( سیاست نیوز) سینئر کانگریس قائد اور سابق وزیر ایم ششی دھر ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت مجوزہ بلدی انتخابات میں وارڈز کی از سر نو حد بندی اور تحفظات کے سلسلہ میں بے قاعدگیوں میں ملوث ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی الیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس آج ششی دھر ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں میونسپلٹیز میں وارڈز کی حد بندی کا جائزہ لیا گیا۔ مختلف اضلاع سے حد بندی کے سلسلہ میں شکایات موصول ہورہی ہیں۔ بھینسہ ، شمس آباد اور دیگر میونسپلٹیز کے مقامی قائدین نے حد بندی میں بے قاعدگیوں کی شکایت کرتے ہوئے عدالت سے حکم التواء حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں جن 52 میونسپلٹیز کے انتخابات ہوئے تھے ان کی میعاد 2 جولائی کو ختم ہوچکی ہے۔ حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ مقررہ وقت پر انتخابات منعقد کرے لیکن میونسپلٹیز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور از سر نو حد بندی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وارڈز کی حد بندی کے کام میں تاخیر کے سلسلہ میں اسٹیٹ الیکشن کمیشن حکومت کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع ہوا جہاں حد بندی اور تحفظات طئے کرنے کیلئے حکومت نے 151 دنوں کی مہلت طلب کی لیکن عدالت نے صرف 119 دنوں میں تمام مراحل کی تکمیل کی ہدایت دی ہے۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ چار ماہ کی مہلت کے باوجود ٹی آر ایس حکومت جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے اپنی من مانی کے ذریعہ چار ہفتوں میں یہ مراحل مکمل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارڈز کی حد بندی کا کام مکمل کرلیا گیا اور اب تحفظات کی فراہمی کا کام جاری ہے۔ یہ دونوں کام حکومت انتہائی رازدارانہ طور پر انجام دے رہی ہے تاکہ صرف برسراقتدار پارٹی کو فائدہ پہنچے۔ 2016 میں جب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات منعقد ہوئے تھے حکومت نے لمحہ آخر میں تحفظات کا اعلان کیا جس سے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو محفوظ نشستوں پر موزوں امیدوار کھڑا کرنے میں دشواری ہوئی۔ ٹی آر ایس اور اس کی حلیف جماعت مجلس کو تحفظات کے بارے میں پہلے سے ہی علم تھا۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ مجوزہ میونسپلٹیز کے انتخابات میں اسی طرح کی سازش کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے 119 دنوں کی مہلت دی ہے تو پھر حکومت عجلت میں کیوں ہے۔ جمہوریت کا گلا گھونٹنے کی کوششوں کی کانگریس پارٹی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے حد بندی اور تحفظات کا کام بے قاعدگیوں کے بغیر انجام دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی حلقوں میں بی سی طبقات کی شناخت میں عہدیدار تساہل سے کام لے رہے ہیں اور بعض مقامات پر اعلیٰ طبقات کو بی سی میں شامل کردیا گیا۔