واشنگٹن میں غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس، 47 ممالک شریک

,

   

واشنگٹن۔ 19؍فروری ( ایجنسیز )امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی زیر صدارت واشنگٹن میں غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔غزہ امن بورڈ کا اجلاس ڈونالڈ ٹرمپ انسٹیٹیوٹ آف پیس میں ہو ا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف غزہ امن بورڈ اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس شروع ہونے سے پہلے شرکاء کا گروپ فوٹو لیا گیا۔ غزہ امن بورڈ اجلاس میں پاکستان سمیت 47 ممالک شریک ہیں۔ اسرائیل اور یورپی یونین بھی شرکت ہیں۔ غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی واشنگٹن میں اعلی امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔امن بورڈ کے اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد وہاں پائیدار امن اور استحکام لانا اور جنگ زدہ علاقے کی تعمیر نو پر بات کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ اس اجلاس کو عالمی امن اور استحکام کی بحالی کے لیے اہم سفارتی اقدام طور پر دیکھ رہے ہیں۔یہ واضح نہیں کہ اجلاس میں کتنے ارکان شریک ہیں۔ اب تک تقریباً دو درجن ممالک نے ٹرمپ کی قیادت میں اس اقدام میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔تاحال یہ واضح نہیں کہ 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے امن بورڈ کے اجلاس میں کتنے رْکن ممالک شریک ہوں گے تاہم اب تک پاکستان اور اسرائیل سمیت تقریباً دو درجن ممالک نے اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ مصر، اْردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر جیسے مسلم ممالک بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہیں۔یاد رہے کہ امریکہ کے بڑے یورپی اتحادی، بشمول برطانیہ اور فرانس، اس بورڈ میں شامل نہیں ہوئے ہیں جبکہ کئی یورپی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام (غزہ امن بورڈ کی تشکیل) اقوامِ متحدہ کو پسِ پشت ڈال سکتا ہے۔ جبکہ بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جنھوں نے ابھی تک امریکی صدر کی جانب سے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا ہے۔