بنگلورو: کرناٹک مہارشی والمیکی شیڈیولڈ ٹرائب ڈیولپمنٹ کارپوریشنگھپلے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 12 ملزمین کے نام اور 49 کروڑ روپے کے اثاثوں کی ضبطی کی ابتدائی چارج شیٹ داخل کی ہے ۔ذرائع نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ چارج شیٹ میں سابق وزیر بی ناگیندر کا نام نہیں ہے ، جنہیں پہلے گھپلہ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ای ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ ایس آئی ٹی چارج شیٹ میں جن لوگوں کا نام لیا گیا ہے ان میں کے ایم وی ایس ٹی ڈی سی کے سابق افسران بھی شامل ہیں۔
، جن میں سابق منیجنگ ڈائریکٹر جے جی پدمنابھ اور سابق اکاؤنٹس افسر پرشورام درگناور شامل ہیں۔ دیگر ملزمان میں فرسٹ فائنانس کریڈٹ کوآپریٹیو سوسائٹی کے صدر ستیہ نارائن ایٹکاری، ناگیندر کے ساتھی نیک کنٹے ناگراج اور ناگراج کے بہنوئی ناگیشور راؤ شامل ہیں۔ ملزمان کے خلاف الزامات کا تعلق کے ایم وی ایس ٹی ڈی سی کے یونین بینک آف انڈیا کے اکاؤنٹ سے تقریباً 94 کروڑ روپے کی تلنگانہ کے مختلف کھاتوں میں غیر قانونی منتقلی سے ہے ۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ لین دین کارپوریشن کو کسی اطلاع کے بغیر ایس ایم ایس یا رجسٹرڈ ای میل آئی ڈی کے ذریعے کیا گیا تھا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دھوکہ دہی کی سرگرمی کو چھپانے کی دانستہ کوشش کی گئی تھی۔ ایس آئی ٹی کے ابتدائی نتائج کے نتیجے میں آٹھ معاملات کا اندراج کیا گیا اور اہم اثاثوں کو ضبط کیا گیا جس میں 16.83 کروڑ روپے نقد، 16.25 کلو سونا، 4.51 کروڑ روپے کی لگژری کاریں اور بینک کھاتوں میں کل ملاکر 13.72 کروڑ روپے شامل ہیں۔ چارج شیٹ سات جلدوں اور 3,072 صفحات پر محیط ایک جامع دستاویز ہے ، جس میں ملزمان پر تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے تحت مجرمانہ سازش، مجرمانہ اعتماد کی خلاف ورزی اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔