واٹر بورڈ دفتر کے روبرو بی جے پی کارپوریٹرس کا دھرنا

   

آلودہ پانی کی سربراہی پر احتجاج، کئی کارپوریٹرس گھروں میں محروس

حیدرآباد۔/22 فروری، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کارپوریٹرس نے پانی اور ڈرینج کے مسائل پر آج حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے دفتر کے روبرو دھرنا منظم کیا۔ بی جے پی کارپوریٹرس کے دھرنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے واٹر بورڈ کے دفتر کے اطراف سیکوریٹی انتظامات کو سخت کردیا تھا۔ پارٹی کی جانب سے شہر میں پانی اور ڈرینج کے مسائل پر جدوجہد اور احتجاج کے اعلان کے بعد کارپوریٹرس نے پہلا دھرنا واٹر بورڈ دفتر کے روبرو دیا۔ پولیس نے کئی کارپوریٹرس کو احتجاج سے روکنے کیلئے مکانات پر محروس رکھا۔ انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دیگرکارپوریٹرس اپنے حامیوں کے ساتھ واٹر بورڈ کے دفتر پہنچے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ احتجاج کے موقع پر صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی کارپوریٹرس نے کہا کہ حکومت کو واٹر بورڈ سے جس قدر محبت ہے وہ عوام سے نہیں ہے۔ انہوں نے واٹر ورکس کو جی ایچ ایم سی میں ضم کرنے سے متعلق فیصلہ کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سلسلہ میں سیاسی جماعتوں اور عوام سے رائے حاصل نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ ایم سی اور واٹر ورکس کے درمیان تال میل کی کمی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کئی علاقوں میں ڈرینج کی لائن واٹر لائن میں مل چکی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کو آلودہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ بی جے پی کارپوریٹرس نے کہا کہ کے ٹی آر کو اپنی تصاویر دودھ سے دھلانے کے بجائے شہر میں بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہم سے سوال کررہے ہیں کہ منتخب ہونے کے بعد مسائل کی یکسوئی کیوں نہیں کی گئی۔ بی جے پی کارپوریٹرس نے عہدیداروں کو یادداشت حوالے کی جس میں ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی جہاں آلودہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ پولیس نے کئی احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا۔ر