واٹس ایپ کے میسیجس غیر محفوظ ، صارفین دیگر اپلی کیشن استعمال کرنے پر مجبور

   


استعمال کنندوں میں تشویش ، واٹس ایپ پر پابندی عائد کرنے حکومت ہند پر زور
حیدرآباد۔ واٹس ایپ اور فیس بک کے درمیان مواد کی ترسیل کے سلسلہ میں کئے جانے والے نئے اپ ڈیٹ کے اعلان کے ساتھ ہی لاکھوں کی تعداد میں واٹس اپ صارفین دیگر میسیجنگ ایپلیکشن پر منتقل ہونے لگے ہیں اور واٹس ایپ استعمال کنندوں کی بڑی تعداد کی جانب سے ٹیلی گرام اور سگنل کے استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ واٹس اپ کے اس نئے اپ ڈیٹ کے بعدفون میں موجود مواد محفوظ نہیں رہنے والا ہے اور واٹس ایپ فون کا مواد اور واٹس اپ پر کئے جانے والے میسیج کو فیس بک کے ساتھ شئیر کئے جانے کے امکانات کے تحت ٹیلی گرام اور سگنل کے استعمال میں اضافہ کا رجحان دیکھا جارہا ہے اور ملک بھر میں واٹس ایپ استعمال صارفین کی جانب سے واٹس ایپ کو ڈیلیٹ کرتے ہوئے ٹیلی گرام یا سگنل ایپ ڈاؤن لوڈ کئے جارہے ہیں اور واٹس ایپ کا ہی استعمال کرتے ہوئے یہ تشہیر کی جا رہی ہے کہ واٹس اپ کوڈیلیٹ کرتے ہوئے ٹیلی گرام یا سگنل ایپ کو ڈاؤن لوڈکیا جائے۔ ملک بھر میں کئی گوشوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہاہے کہ حکومت فوری واٹس اپ پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کے فون میں موجود ڈاٹا کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ ہندستان میں ہی نہیں بلکہ واٹس ایپ کی جانب سے جاری کئے جانے والے نئے اپ ڈیٹ میں دنیا بھر کے صارفین کو ایک پاپ ایپ میسیج کے ذریعہ اس بات سے مطلع کیا گیا ہے کہ واٹس ایپ پر موجود تفصیلات اب واٹس ایپ کی جانب سے فیس بک پر شئیر کی جاسکتی ہیں اور ان تفصیلات کے شئیر کرنے کی شرط پر ہی واٹس ایپ استعمال کنندے یکم فروری کے بعد واٹس ایپ استعمال کرپائیں گے جبکہ واٹس ایپ کو تفصیلات شئیر کرنے کا اختیار نہ دینے والے صارفین کے لئے یکم فروری سے واٹس ایپ بند کردیا جائے گا۔بتایاجاتا ہے کہ واٹس ایپ کے اس اقدام سے ہندستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے کئی ممالک کے شہریوں میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ شہری واٹس ایپ پر پابندی کے سلسلہ میں مہم شروع کرچکے ہیں۔ تجارتی برادری کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہاہے کہ حکومت واٹس ایپ پر پابندی کے سلسلہ میں اقدامات کو تیز کرے کیونکہ واٹس ایپ کی جانب سے موبائیل فون میں موجود ڈاٹا تک رسائی حاصل کرنے کے اقدامات کی صورت میں تجارتی برادری کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ کئی تاجرین فون میں اپنی تجارتی سرگرمیوں کی تفصیلات کے علاوہ دیگر کئی معلومات محفوظ کرتے ہیں۔