واپس لئے گئے 3 زرعی قوانین کو پھرسے لانے کا کوئی منصوبہ نہیں: حکومت

   

حکومت نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں کہا کہ اس کا کسان تحریک کے مرکز میں رہے تین زرعی قوانین کو پھر لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے ایوان بالا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ حکومت کا مستقبل میں واپس لیے گئے تین زرعی قوانین کو واپس لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف ملکاارجن کھڑگے نے پوچھا تھا کہ کیا حکومت کے پاس مستقبل میں واپس لئے گئے زرعی قوانین کو واپس لانے کا کوئی منصوبہ ہے؟۔کھڑگے نے یہ بھی پوچھا کہ کیا حکومت تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران مارے گئے کسانوں کے خاندانوں کو کوئی معاوضہ فراہم کرے گی۔اس کے جواب میں تومر نے کہاکہ کسان تحریک میں مارے گئے کسانوں کے خاندانوں کو معاوضہ وغیرہ دینے کا معاملہ متعلقہ ریاستی حکومتوں کے پاس ہے۔ ساتھ ہی تومر نے کہا کہ حکومت ہند زرعی لاگت اور قیمتوں کے کمیشن کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال فصل کے دونوں موسم میں منصفانہ اوسط معیار (ایف اے کیو) کی 22 بڑی زرعی اجناس کیلئے کم از کم امدادی قیمتیں (ایم ایس پی) فراہم کرے گی