واہ رے گجرات ماڈل !‘ 40 ہزار لڑکیاں و خواتین لاپتہ

   

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کا سرکاری ڈاٹا۔ یومیہ 22 خواتین و لڑکیاں غائب ہوتی ہیں

حیدرآباد۔7۔مئی ۔ (سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی ملک بھر میں ’گجرات ماڈل‘ کی بات کرتی ہے لیکن اسی گجرات میں جہاں 26سال سے بی جے پی حکومت کر رہی ہے وہاں گذشتہ 5برسوں میں 40ہزار سے زائد لڑکیاں اور خواتین لاپتہ ہوچکی ہیں جن کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلایا جاسکا ہے ۔اگر بی جے پی کے گجرات میں دور حکومت کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ 26برسوں میں بی جے پی 9500 دن اقتدار میں رہی اور اگر گذشتہ 5برسوں کو ایام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ 1826ہوتے ہیں اور 1826 دن میں گجرات میں مجموعی طور پر 41 ہزار 621 خواتین و لڑکیاں لاپتہ ہوئی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یومیہ 22 لڑکیاں اور خواتین گجرات سے غائب ہوئی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں خواتین اور لڑکیاں کس قدرمحفوظ ہیں۔ گجرات سے گذشتہ 5برسوں کے دوران 41ہزار 621 لڑکیوں اور خواتین کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کسی خانگی ادارہ یا انسانی حقوق تنظیم نے نہیں بلکہ خود مرکزی وزارت داخلہ کے تحت ادارہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) نے کی ہے ۔ این سی آر بی رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق سال 2016 میں گجرات سے جملہ 7105لڑکیاں لاپتہ ہوئی ہیں جبکہ سال 2017 میں 7712 لڑکیاں لاپتہ ہونے کی شکایات ہیں۔ سال 2018میں لاپتہ ہونے والی لڑکیوں و خواتین کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا اور یہ تعداد 9246 تک پہنچ گئی جبکہ سال 2019 میں یہ تعداد 9268 ریکارڈ کی گئی ۔ اسی طرح 2020 میں گجرات سے لاپتہ لڑکیوں اور خواتین کی تعداد 8290 ریکارڈ کی گئی ۔ گجرات انسانی حقوق کمیشن یا خواتین کمیشن کے سابقہ عہدیداروں اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ گجرات سے لاپتہ لڑکیوں اور خواتین کو ملک کی دیگر ریاستوں میں بردہ فروشی کے دلدل میں پھنسا دیا جاتا ہے اور زمانہ قدیم کے تحقیقاتی طریقہ کار کو اختیار کرنے سے ان کا پتہ چلایا جانا مشکل ہوجاتا ہے اور ایک مرتبہ قحبہ گری کے دلدل میں پھنسنے کے بعد ان لڑکیوں کی واپسی ممکن نہیں ہوتی اسی لئے انہیں تلاش کرنے کا سلسلہ ترک کردیا جاتا ہے۔م