نئی دہلی 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی تشدد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے لئے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر، شکست خوردہ امیدوار کپل مشرا، پرویش ورما، ابھئے ورما اور پھر دہلی پولیس کی بے حسی ذمہ دار ہے۔ بی جے پی قائدین نے اشتعال انگیز بیانات جاری کئے۔ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ دہلی پولیس کے سابق کمشنر اجئے راج شرما نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ دہلی پولیس کا کردار فسادات میں مشکوک رہا اور اس کی بے حسی سے ایسا لگتا ہے کہ دہلی پولیس فرقہ پرست ہوگئی ہے۔ ویسے بھی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق جو ویڈیوز اور تصاویر منظر عام پر آئیں ان میں پولیس کی جانبداری صاف دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ویڈیوز بھی نظر آئے جس میں خود پولیس والے سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑ پھوڑ کرنا کیا امن قائم کرنے کا نیا طریقہ ہے؟ یا پھر فرقہ پرست درندوں کو درندگی کی کھلی چھوٹ دینا اس کا مقصد تھا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب دہلی پولیس، دہلی کے لیفٹننٹ گورنر، چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو دینا پڑے گا۔ صرف ایک مرتبہ امن و امان کی اپیل کرکے اپنا دامن جھاڑلینے والے وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس سوال کی زد سے نہیں بچ سکتے۔ دہلی پولیس کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہی ساری دنیا میں ہندوستان کا نام بدنام ہوا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی عالمی پلیٹ فارمس پر اپنی حکومت کے کارناموں کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن انہیں شاید اس بات کا قطعی احساس نہیں کہ دہلی فسادات نے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہہ کو کس بری طرح تباہ کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے لے کر آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (OIC) نے ہندوستان میں اقلیتوں اور دلتوں پر تشدد اور سیاہ قانون سی اے اے کے نفاذ کی مذمت کی ہے، تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہندوستان سے قربت رکھنے والے ملک ایران نے بھی دہلی مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹ میں ہندوستانی حکام کو مشورہ دیا کہ وہ کسی کو بھی جنونی تشدد کی اجازت نہ دیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران، ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کی لہر کی مذمت کرتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد پر صرف ایران نے ہی تشویش ظاہر نہیں کی بلکہ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرس اور بے شمار امریکی قانون سازوں نے بھی دہلی تشدد اور اقلیتوں کے قتل پر شدید برہمی ظاہر کی۔ دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اپنی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کو یقینی بنائیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہیکہ وزیر اعظم نے بی جے پی ارکان پارلیمنٹ سے یہ بھی کہا کہ قومی مفادات پارٹی مفادات سے بالاتر ہیں اور ترقی ہماری حکومت کا منترا ہے۔ مودی جی نے تو بڑی بڑی باتیں کیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خود انہوں نے سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات پر بیان دیتے ہوئے لباس دیکھ کر شناخت کرنے کی بات کہی تھی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک مرحلہ پر زہر اگلتے ہوئے دہلی کے ووٹروں کو شاہین باغ کی احتجاجی خواتین کو شاک لگانے کا مشورہ دیا تھا اور مرکزی مملکتی وزیر فینانس انوراگ ٹھاکر ہی تھے جنہوں نے دیش کے غداروں کو، گولی مارو …… کو جیسے اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے۔ بی جے پی کے شکست خوردہ امیدوار کپل مشرا نے سی اے اے کے خلاف احتجاج ختم کروانے کے لئے پرتشدد طریقہ اپنانے کی دھمکی دی تھی۔ غرض بی جے پی قائدین نے ہمیشہ اقلیتوں کے خلاف زہر اگلا۔ وزیر اعظم بھی اس سے اپنا دامن نہیں بچا سکے۔ وزیر اعظم بھارت ماتا کی جئے نعرے کے بارے میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حقیقت بیانی پر تنقید تو کرتے ہیں، کاش وہ یہ سمجھتے کہ دہلی میں جن لوگوں کو شہید کیا گیا، یوپی میں جو 23 نوجوان شہید ہوئے وہ بھی تو یہی بھارت کے سپوت تھے۔
