واہ مودی جی واہ ، آپ کا جواب نہیں … !!!

   

جنسی ہراسانی معاملہ ، ایم جے اکبر بلی کا بکرا ، برج بھوشن کے جرائم پر پردہ
قوم و ملک کا سر فخر سے بلند کرنے والی بیٹیاں انصاف کی منتظر
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جون : جنسی ہراسانی معاملات میں مرکزی حکومت کا دوہرا معیار آشکار ہوچکا ہے جو فی الحال سارے ملک میں موضوع بحث بن چکا ہے ۔ ایک خاتون صحافی کی شکایت پر مرکزی مملکتی وزیر ایم جے اکبر سے وزارت چھین لینے والی مودی حکومت خاتون ریسلرس کی شکایت اور تقریبا 40 دن تک احتجاج کرنے کے باوجود ریسلرس فیڈریشن کی صدارت سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کو ہٹانے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ ’ بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ ‘ کا نعرہ دینے والی مرکزی حکومت کے اس موقف سے ساری دنیا کے سامنے ملک کو شرمسار ہونا پڑ رہا ہے ۔ مرکزی حکومت کے اس موقف سے عوام میں یہ بھی پیغام پہونچ رہا ہے اگر خاتون یا خواتین کو کوئی مسلمان جنسی ہراسانی کا شکار بناتا ہے تو اس کو برسوں بعد بھی سزا دیتے ہوئے خواتین کو یہ احساس دلایا جائے گا کہ مرکزی حکومت خواتین کے تحفظ کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی چاہے وہ کتنے ہی اعلیٰ عہدے پر فائز ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ اس کے برعکس اکثریتی طبقہ کا قائد جنسی ہراسانی کی شکایتوں کا سامنا کرتا ہے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ ملک میں ستمبر ، اکٹوبر ، سال 2018 میں جنسی ہراسانی سے متعلق #METOO مہم کا آغاز ہوا تھا جس پر ایک خاتون صحافی نے کئی برس قبل ان کے ساتھ جنسی ہراسانی کرنے کا اس وقت کے مرکزی وزیر خارجہ ایم جے اکبر پر الزام عائد کیا تھا ۔ می ٹو مہم کے دوران دوسری خاتون صحافیوں نے بھی اس طرح کی ایم جے اکبر کے خلاف شکایت کی تھی جس پر بدنامی کے ڈر سے مودی حکومت نے ایم جے اکبر سے استعفیٰ طلب کرلیا تھا ۔ برسوں پرانے کیس پر ایم جے اکبر کے خلاف کارروائی کی گئی مگر ریسلینگ کے ذریعہ اولمپکس اور بین الاقوامی سطح پر اپنی کامیابیوں کے ذریعہ ہندوستان کا سرفخر سے بلند کرنے والی خاتون ریسلرس کی جنسی ہراسانی کے الزامات کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ جب کہ خاتون صحافیوں نے سوشیل میڈیا اور میڈیا میں مہم چلائی جس پر ایم جے اکبر کو بلی کا بکرا بنایا گیا ۔ خاتون ریسلرس ملک کے دارالحکومت دہلی کے جنترمنتر پر اپنے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانیوں کے خلاف ایک ماہ تک احتجاج کیا مگر وزیراعظم نریندر مودی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مرکزی خاتون وزراء اور بی جے پی کی خاتون ارکان پارلیمنٹ تماشہ دیکھتی رہی ۔ ان کی تائید و حمایت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے ایم جے اکبر کو وزارت سے ہٹانے میں دیر نہیں کی گئی مگر برج بھوشن کو ریسلینگ فیڈریشن کی صدارت سے ہٹانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ میں کانگریس کے پارلیمانی قائد کی جانب سے صدر جمہوریہ کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے پر خاتون وزراء ، خاتون بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ بی جے پی کے دوسرے ارکان پارلیمنٹ نے ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی روک دی تھی لیکن خاتون ریسلرس کی آواز سننے کو کوئی تیار نہیں ، حیرت کی بات ہے ۔۔