تاجرین پارچہ و ریڈی میڈ گارمنٹس کی جگہ اشیائے خورد و نوش و خشک میوؤں کی فروختگی
حیدرآباد۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں تاجرین اپنے کاروبار تبدیل کرتے ہوئے یا پھر موجودہ کاروبار کی جگہ اشیائے خورد و نوش فروخت کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کے دوران ہونے والے نقصان اور فی الحال موجود تجارتی مندی کو دو ر کرنے کے لئے متعدد اقدامات کر رہے ہیں۔شہر حیدرآباد میں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق تاجرین پارچہ اور ریڈی میڈ گارمنٹس کے تاجرین کی جانب سے خشک اشیائے خورد و نوش جیسے انڈے اور خشک میوہ جات کے کاروبار کئے جانے لگے ہیں اور وہ اپنے موجودہ تجارتی مراکز پر ہی ان اشیاء کی تجارت کررہے ہیں کیونکہ ملک اور دنیا بھر میں وباء کے سبب دیگر تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہیں اور ملک بھر کے کئی علاقوں بالخصوص شہری علاقوں میں تاجرین اپنی گذربسر کیلئے تجارت کو تبدیل کرنے کے سلسلہ میں غور کر رہے ہیں بلکہ کئی تاجرین اپنی تجارت کو تبدیل کرچکے ہیں۔وباء کے اس دور میں جاری صورتحال کے دوران اب کہا جا رہاہے کہ شہریوں کی توجہ قوت مدافعت کے استحکام پر مبذول ہے اور وہ ان اشیائے خورد و نوش پر خرچ کر رہے ہیں جن کے ذریعہ قوت مدافعت میں استحکام پیدا ہوتا ہو۔ شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے تجارتی بازاروں میں تجارتی سرگرمیوں کے ماند ہونے کے بعد محلہ واری اساس پر نوجوانوں کی جانب سے شروع کئے جانے والے ریڈی میڈ گارمنٹس اور دیگر تجارتوں کو سنگین صورتحال کا سامنا ہے اسی لئے وہ اپنی بنیادی تجارت کو وقت کی ضرورت کے اعتبار سے تجارت میں تبدیل کرنے لگے ہیں ۔ انڈوں کے علاوہ خشک میوہ جات کی دکانات میں شہر میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ نوجوان ان کاروبار پر توجہ دے رہے ہیں جن کی فروخت تیزی سے جاری ہے اور اس کے علاوہ اشیائے ضروریہ کی دکانات کھولنے پر بھی نوجوانوں کی توجہ مرکوز ہونے لگی ہے اور وہ کرانہ اور جنرل اسٹور جیسی سرگرمیوں کو عصری انداز میں پیش کرتے ہوئے انہیں فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حیدرآباد کے علاوہ ملک کے کئی شہروں میں نوجوان نسل جو کہ تجارتی سرگرمیوں کی سمت مائل ہے وہ اس کاروباری مندی کے اس دور میں متبادل کی تلاش میں مصروف ہیں تو ملازمت پیشہ افراد تنخواہوں میں کٹوتی کے علاوہ لاک ڈاؤن کے دوران ہوئے اخراجات کے سبب مشکلات میں مبتلاء ہیں۔نوجوانوں کی جانب سے متبادل کاروبار اور اپنی جگہ کے صحیح استعمال کے رجحان میں دیکھے جار ہے اضافہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ بازاروں میں جلد بڑی تبدیلی رونما ہوگی۔