احتیاط لازمی، تغذیہ بخش غذاضروری ، ڈپریشن اور ڈر و خوف کے ماحول سے بچانے کی تلقین، سائبرآباد پولیس کے منفرد اقدامات
حیدرآباد۔ کورونا کی تیسری لہر کے تعلق سے جاری قیاس آرائیاں اور خدشات کے درمیان سائبر آباد پولیس نے منفرد اقدام کا آغاز کردیا ہے۔ میڈی کیور ہاسپٹل کے اشتراک سے پولیس نے شعور بیداری پروگرام کی شروعات کردی ہے اور آگہی شعور بیداری ، احتیاطی تدابیر اور موثر اقدامات کے تعلق سے تفصیلات پر مبنی ایک بک لیٹ کی اجرائی عمل میں لائی ہے۔ کورونا وائرس کے قہر کی تیسری لہر کے متعلق بچوں پر وائرس کے اثر انداز ہونے کو بہت زیادہ خطرات پائے جاتے ہیں اور اس ضمن میں علاج سے بہتر احتیاط کا سائبرآباد پولیس کمشنر نے نعرہ دیا ہے۔ کورونا وائرس کی تیسری لہر میں بچوں پر وائرس کے اثر انداز ہونے کی قیاس آرائیاں اور خدشات سے عوام خوف زدہ ہیں بلکہ عوام کو خوف زدہ ہونے سے پہلے ہی خود کو تیار رکھنا ہوگا۔ کمشنر سجنار کا کہنا ہے کہ اس بک لیٹ کے ذریعہ شعور بیداری کی جارہی ہے تاکہ عوام میں شعور بیدار ہو اور خوف دور کیا جاسکے۔ بچوں پر اثر انداز ہونے کے کافی امکانات تو پائے جاتے ہیں لیکن خطرناک مرحلہ تک پہنچنے کے بہت کم امکانات ہیں۔ لہذا قبل از وقت احتیاط کے سبب اس وائرس کے قہر سے بچوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر ماہر اطفال میڈی کیور ہاسپٹل ڈاکٹر رویندر ریڈی نے بتایا کہ طبی عملہ اور علاج کرنے والے ڈاکٹرس کو بھی مکمل آگہی لازمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح پہلی لہر میں ضعیف اور دوسری لہر میں نوجوان اور کم عمر والے متاثر ہوئے اس طرح تیسری لہر میں بچوں کو وائرس متاثر کرسکتا ہے لیکن خطرناک نہیں ہوگا، اس لئے بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کے اقدامات ، تغذیہ بخش غذائیں ، احساس کمتری اور ڈپریشن ، ڈر اور خوف ، مار پیٹ سے محفوظ رکھنا چاہیئے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ عملی احتیاطی اقدامات کے ذریعہ اپنے بچوں کو سبق دیں۔ بخار ، تیز بخار پر فوری توجہ دیں۔ ان کی قوت مدافعت کو بڑھانے کے اقدامات کریں۔ زور زبردستی اور دباؤ جیسے اقدامات سے گریز کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیسری لہر میں ایسے افراد کی تعداد متاثر ہونے کا خطرہ ہے جو پہلے متاثرہ ہوچکے ہیں یا پھر انہوں نے ویکسین نہیں لیا ہے۔ 18 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو چاہیئے وہ ویکسین کا استعمال کریں اور ویکسین لازمی طور پر استعمال کرنا چاہیئے۔ تاہم ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ تیسری لہر کب آئے گی یا پھر نہیں آئے گی، کس وقت کس طرح اثر انداز ہوگی اس بارے میں کہنا ابھی مشکل ہے اور حالات کے متعلق فی الحال کچھ کہا نہیں جاسکتا بلکہ احتیاط ہی بہتر علاج ہوگا۔ اس موقع پر سائبر آباد پولیس کے دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔