خوردنی تیل کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ، دال ، ترکاری اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بھی آسمان پر
سنگاریڈی :۔عالمی وباء کورونا وائرس اور لاک ڈاون نے دنیا بھر کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقہ پر پڑا ہے۔ گزشتہ 13 ماہ سے عوام پریشان ہیں ہزارہا خاندان اپنے روزگار سے محروم ہوئے یا پھر ان کی آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس عرصہ میں عوام میں مفلسی اور قرض کا بوجھ بڑھا ہے۔ سال گزشتہ 22 مارچ کو جنتا کرفیو نافذ ہوا اور اسی شب سے تلنگانہ میں مکمل لاک ڈاون شروع ہوگیا جبکہ قومی سطح پر 25 مارچ سے لاک ڈاون نافذ ہوا۔ 25 مارچ تا 31 مئی یعنی 68 دنوں تک ملک بھر میں مکمل لاک ڈاون نافذ رہا۔ عام زندگی معطل رہی۔ ہوٹلوں، تجارتی اداروں، دکانات میں کام کرنے والے، چھوٹے تاجرین،خانگی ملازمین،گھریلو تجارت کرنے والے، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے، آٹو اور کیاب ڈرائیورس اور اسی طرح کے دیگر کئی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد شدید مالی مشکلات کا شکار ہوئے اور ان کا گذارہ مشکل ہوگیا۔ ماہ ستمبر میں زندگی پٹری پر آنے لگی جس سے عوام کو ڈھراس بندھی عوام شدید مالی جھٹکہ سے نکلنے کی تگ و دو کرنا شروع ہی کیا تھا کہ امسال ماہ مارچ میں وباء نے پھر ایک مرتبہ اپنا پنجہ پھیلا یااور حکومت تلنگانہ نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے 12 مئی سے ریاست تلنگانہ میں لاک ڈاون 4 گھنٹوں کی نرمی کے ساتھ نافذ کردیا جس سے غریب عوام پھر ایک مرتبہ وہی حالات اور مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ لاک ڈاون کی وجہ سے عام زندگی تھم سی گئی لیکن لاک ڈاون کا اثر گرانی پر نہیں ہوا،گرانی کل بھی آزاد تھی آج بھی آزاد ہے اور اونچائی کی جانب اڑان بھر رہی ہے۔ عوام کیلئے لاک ڈاون، آمدنی میں کمی، مہنگا علاج اور اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ نے ” باقی جو بچا تھا وہ مہنگائی مار گئی” کے مترادف حالات پیدا کردیئے ہیں۔ بھوک کی آگ مٹانے اور زندگی کی گاڑی چلانے عوام قرض پر قرض لینے پر مجبور ہیں۔ سال گزشتہ لاک ڈاون کے آغاز کے وقت سورج مکھی کا تیل 90 روپیہ لیٹر تھا اور آج اس کی قیمت 175 روپیہ فی لیٹر ہے یعنی قیمت میں تقریبا” دوگنا اضافہ ہوگیا۔ پام آئیل آج 130 اور مونگ پھلی تیل 150 روپیہ کے قریب فروخت ہو رہا ہے۔ دالوں اور دیگر کرانہ کے سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فی الحال ٹماٹر اور آلو کو چھوڑ کر باقی ترکاریاں بھی آنکھیں دکھا رہی ہے۔ بینس کی پھلی 160 روپیہ فی کلو ہے۔ گنوار کی پھلی اور بھینڈی 60 روپیہ جبکہ توراء 80 روپیہ کیلو فروخت ہو رہی ہے۔ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میںروزانہ دس یا بیس پیسے کا اضافہ کرتے اس کو سو روپیہ کے قریب کردیا گیا۔پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے گرانی بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں عوام کی آمدنی کم ہوئی اور گرانی میں اضافہ ہوا ہے جو کہ غلط اکنامکس ہے۔ حکومت جس طرح سے کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے اقدامات کر رہی ہے اسی طرح گرانی کو کنٹرول کرنے سخت اقدامات کرے تاکہ غریب عوام کو کچھ راحت حاصل ہو سکے۔