اعضائے رئیسہ کیلئے نقصاندہ، اینٹی بائیوٹک کے مسلسل استعمال سے گردوں کا مرض
گوگل سےطبی مشورے خطرہ جان
حیدرآباد ۔ 2 ڈسمبر (سیاست نیوز) وبائی امراض اور موسمی بخار کے دوران بیماری سے راحت کیلئے ذاتی تجربات مہنگے ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ نہ صرف انسانی صحت کیلئے مضر اثرات کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ انسانی جسم کے اعضائے رئیسہ کیلئے بھی کافی نقصاندہ ثابت ہوتے ہیں۔ اکثر شہریوں میں اب یہ عام رجحان پایا جاتا ہیکہ وہ اپنے ذاتی تجربہ کو آزمانے لگے ہیں۔ بخار، اعضاء شکنی، سستی اور کمزوری، وبائی اور موسمی بخارات پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں اور یہ رجحان بچوں کے معاملہ میں بھی پایا جاتا ہے اور کثر شہری روایتی انداز کو چھوڑ کر ’’گوگل‘‘ سے مشورہ لینے لگے ہیں جو خطرناک نتائج کا نقیب بن سکتا ہے چونکہ شہر حیدرآباد میں اس طرح کا ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا۔ جہاں ڈاکٹروں کی تحقیق کے بعد اصل حقیقت منظرعام پر آئی۔ ایک شخص اپنی لڑکی کو ذاتی تجربہ کی بنیاد اور گوگل سے مشورہ لیتے ہوئے گوگل پر سرچ کرتے ہوئے دوائی دیا کرتا تھا اور اسی دوائی کے مسلسل استعمال سے نوجوان لڑکی کے گردے ناکارہ ہوگئے نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی کو ہاسپٹل کے آئی سی یو میں شریک کروانا پڑا۔ اس لڑکی کی حالت زار اور اس کے متاثرہ اعضائے رئیسہ کو دیکھنے کے بعد معروف انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹرس نے تشویش ظاہر کی۔ ایشین انسٹیٹیوٹ آف نفرالوجی اینڈ یورالوجی کے ایک ماہر ڈاکٹر نے لڑکی کے والد سے جب حالت بگڑنے کی وجہ پوچھی تو لڑکی کے والد نے بتایا کہ ان کی لڑکی پیشہ سے آرکیٹک ہے جو بار بار ہر چند روز میں بیمار ہوجاتی ہے۔ اس نے لڑکی کی حالت دیکھتے ہوئے اپنا ذاتی تجربہ کیا اور مارکٹ میں دستیاب ادویات کے علاوہ گوگل پر سرچ کرتے ہوئے لڑکی کو اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال کروایا۔ اینٹی بائیوٹک کے مسلسل استعمال سے لڑکی کی صحت بگڑ گئی اور اس کے گردوں میں کنکریاں جمع ہوگئیں۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہیکہ انسانی جسم کیلئے اینٹی بائیوٹک ضروری اور خاص موقعوں پر استعمال کرنا چاہئے اور زیادہ تر اینٹی بائیوٹک سے گریز ہی بہتر رہتا ہے۔ ڈاکٹرس سے تشخیص کروانے پر مریض کی حالت اور بخار کی شدت کے بعد ہی مفید ہو تو ڈاکٹر اینٹی بائیوٹک کا مشورہ دیتے ہیں اور ان اینٹی بائیوٹک ادویات کا مقررہ کورس مکمل کرنا لازمی ہے۔ اکثر شہری صحت میں بہتری کے بعد کورس مکمل نہیں کرتے چونکہ اینٹی بائیوٹک کا زیادہ استعمال جسم میں پروٹین کو سخت کردیتا ہے اور بیکٹیریا سے لڑنے والے جراثیم میں طاقت کم ہوجاتی ہے چونکہ بیماری سے لڑنے والے بیکٹیریا انسانی جسم میں خود بہ خود اپنی قوت مدافعت کو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسے میں اینٹی بائیوٹک ان میں طاقت پیدا کرنے کی صلاحیت کو کم کرتے ہوئے ادویات کا عادی بنادیتے ہیں جس کے سبب پروٹین سخت ہونے لگتے ہیں اور اس کا اثر راست گردوں پر پڑتا ہے جو یورین انفیکشن اور دیگر بیماریوں کو دعوت دینے کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ ڈاکٹرس کی مانے تو بہتر ہوگا کہ ذاتی تجربات سے گریز کیا جائے چونکہ اکثر شہریوں میں رجحان ہوتا ہیکہ بار بار ڈاکٹرس سے رجوع ہونے پر یہی ادویات کا مشورہ دیں گے جو اس سے پہلے دی گئی لہٰذا مارکٹ سے دوا حاصل کرنے کے بعد اس کو استعمال کرتے ہیں لیکن ایسی سوچ اور اقدام خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ڈاکٹرس سے رجوع کرنا ہی بہتر ہوگا۔ع