وبائی امراض پر ہائی کورٹ کی سرزنش، کے سی آر بیدار ہوں

   

محمد علی شبیر کا ریمارک، سرکاری دواخانوں میں بنیادی طبی سہولتوں کی کمی، عوام پریشان

حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سینئرکانگریس قائد اور سابق وزیر محمد علی شبیر نے ریاست میں وبائی امراض کے تیزی سے پھیلاؤ پر ٹی آر ایس حکومت کی غفلت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض کے سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ کی سرزنش کے بعد کم از کم کے سی آر کو خواب غفلت سے بیدار ہونا چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ میں لاکھوں افراد ڈینگو، ملیریا اور دیگر وبائی امراض سے متاثر ہیں اور اطلاعات کے مطابق تاحال 1400 اموات واقع ہوئی ہیں۔ ہائی کورٹ کو بھی یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ تلنگانہ میں ہیلت ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ سے آخر کتنی بار حکومت کی سرزنش کی جائے گی۔ کے سی آر کو چاہیئے کہ وہ وبائی امراض کی روک تھام پر فوری توجہ مرکوز کریں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے وبائی امراض کے سلسلہ میں مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارک کیا تھا کہ میڈیا کی اطلاعات کے پس منظر میں تلنگانہ میں ہیلت ایمرجنسی کی صورتال دکھائی دے رہی ہے۔ عدالت نے 7 ستمبر تک امراض پر قابو پانے اور متاثرین کے علاج کی سہولتوں کے سلسلہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے وبائی امراض میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ دارالحکومت حیدرآباد کے تمام سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس مریضوں سے پُر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں کی صورتحال کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ چیف منسٹر اور وزیر صحت نے آج تک ایک بھی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا حالانکہ ریاست میں صورتحال ہیلت ایمرجنسی کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جب شہر کے سرکاری دواخانوں میں بنیادی طبی سہولتوں کا فقدان ہے تو پھر اضلاع کی صورتحال کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کو عوام کی صحت کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ چیف منسٹر اور وزراء صرف ان کاموں میں دلچسپی دکھارہے ہیں جن سے فائدہ حاصل ہو۔ محمد علی شبیر نے وبائی امراض پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس طلب کرنے اور سرکاری دواخانوں میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے خصوصی فنڈز کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔