وبائی امراض کی روک تھام کیلئے جنگی خطوط پر اقدامات ضروری

   

شہر اور اضلاع میں امراض کا خطرہ، احتیاطی تدابیر میں حکومت ناکام: محمد علی شبیر
حیدرآباد: سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد اور اضلاع میں شدید بارش سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کیلئے جنگی خطوط پر قدم اٹھائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ وبائی امراض کی روک تھام پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے ساتھ ہی وبائی امراض کا خطرہ بڑھ چکا ہے اور ماہرین نے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے ۔ ایسے میں عوامی صحت کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ایک طرف عوام بارش سے پریشان ہے اور حکومت نے ابھی تک امدادی پیکیج کا اعلان نہیں کیا تو دوسری طرف وبائی امراض کے خطرہ نے عوام کی تشویش بڑھادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب اور شدید بارش کے نتیجہ میں حیدرآباد میں پہلی مرتبہ بھیانک تباہی آئی ہے۔ حکومت اگر احتیاطی تدابیر اختیار کرتی تو جانی اور مالی نقصانات کو کم کیا جاسکتا تھا۔ محکمہ موسمیات نے شدید بارش کی پہلے ہی پیش قیاسی کردی تھی لیکن حکومت نے نشیبی علاقوں سے عوام کو منتقل کرنے کی کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی۔ اب جبکہ شہر میں کئی بستیاں پانی میں محصور ہیں، حکومت اور عوامی نمائندے دورہ کرتے ہوئے مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے نتیجہ میں ملیریا ، ڈینگو اور دیگر امراض کے پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ لہذا حکومت کو جنگی خطوط پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے ۔ مچھروں سے بچاؤ کے لئے ادویات کا چھڑکاؤ اور متاثرہ علاقوں میں عوام کو احتیاطی طور پر ادویات تقسیم کی جائیں۔ گزشتہ سال ڈینگو سے تلنگانہ میں 2000 سے زائد اموات واقع ہوئی تھیں، جاریہ سال حکومت کو محکمہ صحت کے عہدیداروں کو ہنگامی منصوبہ کی ہدایت دینی چاہئے ۔ جن علاقوں میں پانی جمع ہیں، وہاں وبائی امراض کا خطرہ زیادہ رہتا ہے ۔ دوباک کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں کانگریس کی کامیابی کو یقینی قرار دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ عوام کے سی آر حکومت کی کارکردگی سے نالاں ہیں۔