طبی خدمات کو بہتر بنانے کے اعلانات پر کوئی پیشرفت نہیں، دواخانوں میں مریضوں کا ہجوم
حیدرآباد۔17 ستمبر(سیاست نیوز) صحت عامہ کے متعلق حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ عوام کیلئے تکلیف دہ ہوتا جا رہاہے لیکن حکومت کی جانب سے یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ وبائی امراض اور ڈینگو کی روک تھام کیلئے حکومت اور شہری علاقوں میں بلدیات سرگرم ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے سرکاری دواخانو ںمیں خدمات کو بہتر بنانے کے اعلانات پر عمل آوری کے سلسلہ میں کوئی اہم پیشرفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی سرکاری دواخانوں کی حالت میں کوئی بہتری نظر آرہی ہے جبکہ شہر کے خانگی اور سرکاری دواخانو ںمیں اب بھی مریضوں کے ہجوم ہیں جو کہ شدید بخار اور دیگر امراض میں مبتلاء تشخیص کے لئے دواخانوں کو پہنچ رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ ناکافی ثابت ہورہے ہیں۔ سرکاری دواخانو ں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس اور عملہ کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے احکام کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے لیکن ان احکامات پر عمل آوری کے لئے درکار ادویات اور دیگر اشیاء کی فراہمی کے علاوہ عملہ کے تقرر کے سلسلہ میں کوئی وضاحت نہ کئے جانے کے سبب موجودہ عملہ کو مشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کنٹراکٹ اور عارضی ملازمین محکمہ صحت کو فوری خدمات سے رجوع ہونے کے احکام جاری کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں کی اجرائی کا اعلان کیا گیا تھا اور رخصت منسوخ کرنے کے اعلانات کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سرکاری دواخانو ں کی حالت کو بہتر بنایا جاسکے لیکن حکومت کی جانب سے مخلوعہ جائیدادوں کو پر کرنے کے سلسلہ میںتاحال کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب صورتحال انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور ڈاکٹرس کو زائد از 12گھنٹے خدمات انجام دینا پڑرہا ہے لیکن اس کے باوجود مختلف وجوہات کی بناء پر مریضوں کوپریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور سرکاری دواخانوں کی اس حالت کے سبب عوام خانگی دواخانوں کا رخ کررہے ہیں اور خانگی دواخانوں میں معیاری علاج اور سہولتوں کے نام پر مریض ہزاروں روپئے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ دونوں شہر کے کئی سرکاری دواخانوںسے مریض مجبوری کے سبب خانگی دواخانو ںکو منتقل ہورہے ہیں اور بالخصوص بچوں کو سرکاری دواخانہ میں علاج کروانے میں لوگ حوف محسوس کرنے لگے ہیں کیونکہ ڈاکٹرس علاج تو کر رہے ہیں لیکن صفائی کے سلسلہ میں جن حالات کا سامنا مریضوں اور رشتہ داروں کو سرکاری دواخانو ںمیں کرنا پڑ رہا ہے وہ ان کی صحت پر منفی اثرات کا سبب بن رہا ہے ۔