وجئے واڑہ کے سرکاری دواخانہ میں ڈاکٹر کی مشتبہ موت

   

حیدرآباد ۔ 6 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : وجئے واڑہ کے سرکاری دواخانہ میں پی جی کی طالبہ ڈاکٹر بی دپیکا کی چہارشنبہ کی رات مشتبہ حالت میں موت ہوگئی ۔ دپیکا کے ہاتھ پر انجکشن کے چار نشانات پائے گئے ۔ موت کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے ۔دپیکا نے ایم بی بی ایس وینکٹیشورا میڈیکل کالج تروپتی سے مکمل کرنے کے بعد وجئے واڑہ کے سدھارتھ میڈیکل کالج میں پی جی انستھیسیا کے آخری سال میں تھی ۔ دپیکا وجئے واڑہ کے سرکاری دواخانہ میں بطور ڈاکٹر خدمت انجام دے رہی تھی ۔ چہارشنبہ کی رات بھی اس نے ایک اور طالبہ کے ساتھ مل کر خدمت انجام دے رہی تھی ۔ دپیکا نے باہر سے کھانا آرڈر کر کے منگوایا اور کھانا کھانے کے بعد دپیکا نے اُلٹی محسوس کی تو ساتھی ڈاکٹر نے اسے انجکشن دیا ۔ دپیکا اوٹی میں انتظار کررہی تھی 12-30 بجے اس کی ایک اور سرجری مقرر تھی وہ 1-10 تک آپریشن تھیٹر کے اندر اور باہر جاتی دیکھی گئی ۔ اس کے بعد اسے آپریشن تھیٹر کے ٹیبل پر بے ہوش پڑا دیکھ کر ساتھی ڈاکٹروں نے اسے سی پی آر کیا اور اسے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ۔ لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ ساتھی ڈاکٹروں نے دپیکا کو دو انجکشن دئیے تھے ۔ دپیکا کی ساتھی ڈاکٹر مونیکا نے پولیس میں شکایت کی ۔ ڈاکٹر دپیکا کی موت کے بعد وزیر صحت ستیہ کمار یادو ، وجئے واڑہ کمشنر راج شیکھر بابو نے دواخانہ کے سپرنٹنڈنٹ سے اس کیس کی مکمل جانچ کرنے کا حکم دیا ۔ سرکاری دواخانہ کے انچارج سپرنٹنڈنٹ ایڈوکنڈلا راؤ نے بتایا کہ دپیکا نے پیٹ میں درد کی شکایت کرنے پر ساتھی ڈاکٹروں نے اسے انجکشن دیا تھا ۔ اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ پولیس نے ایک مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا ۔۔ ش