روز مرہ کی زندگی پر منفی اثرات، حکومت کو فوری توجہ دینے کی اپیل
حیدرآباد 23 ستمبر (سیاست نیوز) ودیا والینٹرس کو ماہ اپریل سے تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ خیریت آباد منڈل کے ایک ودیا والینٹر نے بتایا کہ تنخواہ کی عدم اجرائی کے باعث بچوں کی اسکول فیس ادائیگی کے لئے رقم نہ ہونے کی وجہ سے زیورات پر قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ گھر چلنا بھی مشکل ہے۔ ایک اور ودیا والینٹر نے بتایا کہ میں ہاسٹل میں رہ کر خیریت آباد میں ودیا والینٹر کی خدمات انجام دیتا اور تنخواہ نہ ملنے سے ہاسٹل فیس ادا نہ کرنے پر ہاسٹل کے مالک نے ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت دی ہے اور میری حالت زار دیکھ کر اسکول کے صدر مدرس نے ان کی ہاسٹل فیس ادا کی ہے۔ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ودیا والینٹرس متعدد مسائل سے دوچار ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ پہلے ہی ودیا والینٹرس کی تنخواہیں بہت ہی کم ہیں اور ملازمت کی کوئی ضمانت نہیں اور انھیں مستقل اساتذہ کی مانند تعطیلات بھی نہیں ہوتی ہیں اور ان تمام پریشانیوں کے باوجود مجبوراً اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ اس کے باوجود ودیا والینٹرس کو باقاعدہ ماہانہ تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ حکومت نے ہر ماہ 7 تاریخ کو ودیا والینٹرس کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بجٹ جاری کیا تھا مگر مختلف اضلاع جیسے حیدرآباد، ملگو اور نارائن پیٹ کے ودیا والینٹرس کی تنخواہیں ادا ہی نہیں کی گئیں۔ دوسری جانب ضلع رنگاریڈی کے لئے 1.58 کروڑ اور ضلع میڑچل کو 24.12 لاکھ روپئے ہی منظور کئے گئے ہیں اور یہ رقم صرف ماہ اپریل تا جون تک کے بقایا جات کے لئے ہی مکمل ہوجاتی ہے۔ ڈی ای او کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت سے نمائندگی کی گئی ہے۔ تاہم حکومت سے بجٹ فراہم نہیں کیا گیا ہے جبکہ یو ٹی ایف کے ضلع صدر سنجیو راؤ اور ودیا والینٹرس کے نمائندے سرینواس ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر بجٹ جاری کرکے ودیا والینٹرس کو تنخواہیں بروقت ادا کریں۔