ودیشا میں سوریہ مندر دراصل ‘بیجامنڈل مسجد’ ہے

   

اے ایس آئی کے گزٹ نوٹیفکیشن پر ہندو گروپس کی برہمی

بھوپال: بھوج شالا کے بعد مدھیہ پردیش میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، اس بار مدھیہ پردیش کے ودیشا میں قدیم وجے سوریہ مندر کو لے کر جس کا انتظام آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کرتا ہے اس مندر کی تصاویر کچھ عرصہ قبل نئی پارلیمنٹ کی عمارت سے مشابہت کی وجہ سے وائرل ہوئی تھیں۔ کئی دہائیوں سے ہندو عقیدت مند ناگ پنچمی پر اس مقام کے باہر مذہبی رسومات ادا کرتے رہے ہیں۔تاہم اس سال ہندو گروپوں نے احاطے میں داخل ہونے اور 9 اگست کو پوجا کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ ضلع کلکٹر بدھیش ویشیا نے اپنی درخواست اے ایس آئی کو ارسال کی جس نے 1951 کے گزٹ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے اس جگہ کو ‘بیجامنڈل مسجد’ کے طور پر درجہ بندی کی۔ اس کے بعد کلکٹر نے پوجا کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جس سے ہندو گروپوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔وہ اے ایس آئی کی جانب سے اس جگہ کو مسجد کے طور پر درجہ بندی کرنے کی مخالفت کررہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہ 1972 سے ہندوؤں کی عبادت گاہ رہی ہے۔ بھوپال سے تقریبا 60 کلومیٹر اور سانچی اسٹوپا سے بمشکل 10 کلومیٹر دور وجے سوریہ مندر / بجمندل مسجد کی جگہ کی ایک ہنگامہ خیز تاریخ رہی ہے۔ اے ایس آئی بھوپال سرکل کی ویب سائٹ کے مطابق یہ مسجد ایک ہندو مندر کے کھنڈرات پر تعمیر کی گئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے 11 ویںاور12 ویں صدی میں سورج دیوتا کی پوجا کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس مندر کو مغل حکمرانی کے دوران خاص طور پر اورنگ زیب کے دور میں کافی نقصان پہنچا تھا جس کے بعد 17 ویں صدی میں اسے مسجد کے طور پر دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرہٹہ حکمرانی کے تحت مسجد کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا تھا اور یہ جگہ خراب ہو گئی تھی۔