میلبورن۔6 مئی(سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا کے وزیر کھیل رچرڈ کارل بیک کا خیال ہے کہ اکتوبر نومبر میں ان کے ملک کی میزبانی میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیمیں نہیں ناظرین بڑا مسئلہ رہیں گے۔آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے مستقبل پر کورونا وائرس کے خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ٹورنمنٹ کا انعقاد ہو پائے گا یا نہیں۔کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں کرکٹ سمیت تمام کھیل سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہوئی ہیں۔آسٹریلیا کے سامنے اپنے کرکٹ کیلنڈر میں دو سب سے بڑی تشویش ٹی 20 ورلڈ کپ اور اس کے بعد ہندوستان کی میزبانی ہے۔اگر اس وجہ سے ہندوستان کا آسٹریلیا دورہ منسوخ ہو جاتا ہے تو کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کو 19 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا بھاری نقصان ہوگا لیکن اب یہ امکان ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ ہو سکتا ہے۔ آئی سی سی نے حالیہ ایک اجلاس میں کہا کہ 16 ٹیموں کے اس ٹورنمنٹ کی تیاریاں جاری ہیںلیکن ورلڈ کپ کی قسمت پر آخری فیصلہ اگست میں ہی ہو پائے گا۔سی اے اور حکومت کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لئے بات چیت جاری ہے۔آسٹریلیا کے وزیر کھیل کارل بیک کا خیال ہے کہ حل نکالا جا سکتا ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ورلڈ کپ کو ناظرین کے بغیر منعقد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔آسٹریلیا کے بیٹسمین مارنس لابوشین نے کہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے اور ناظرین کے بغیر کھیلنا پڑتا ہے تو ایسے میچ ہونے سے کھلاڑی اس کے عادی ہو جائیں گے اور انہیں نہیں لگتا کہ اس سے کھیل کا لطف نکل جائے گا۔کارل بیک نے ایس این ریڈیو سے کہا کہ میں ان کے موسم گرما میں ہند آسٹریلیا ٹسٹ سیریز دیکھنا چاہوں گا۔میں ورلڈ کپ کوبھی ہوتے دیکھنا چاہوں گا۔لیکن دنیا بھر سے 16 ٹیموں کو لانا آسان کام نہیں ہوگا۔ ورلڈ کپ کے لئے مسئلہ ٹیموں سے زیادہ ناظرین کا ہے جس پر ہم سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور میرے خیال سے دنیا کی سوچ بھی یہی ہو گی۔وزیر کھیل نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ شائقین سے کھچا کھچ بھرا اسٹیڈیم اور خالی اسٹیڈیم کے درمیان فرق کیا ہوتا ہے۔ہمارے لئے ناظرین ایک بڑا مسئلہ ہیں۔کیا ہمیں ناظرین کے بغیر کھیلنا ہے یا نہیں۔جہاں تک ٹیموں کی بات ہے تو ہم ضروری احتیاط برتتے ہوئے ورلڈ کپ کومنعقد کروا سکتے ہیں۔کرکٹ اس وقت دنیا بھر میں ٹھپ پڑا ہے ہندوستان میں آئی پی ایل کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کیا جا چکا ہے بہت سے ٹسٹ سیریز ملتوی ہو گئی ہیں انگلینڈ نے اپنے اہم ٹورنمنٹ ہنڈریڈ کے پہلے ورژن کو 2021 تک ملتوی کر دیا ہے اور آئی سی سی کو اپنے مستقبل دورہ پروگرام میں 2023 تک ردوبدل کرنا پڑ سکتا ہے۔