شہر میں ثقافتی ورثہ کی پانچ بڑی یادگاروں کی بحالی کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ورلڈ مونو منٹس فنڈ نے اس جنوری میں حیدرآباد میں اپنے عالمی کام کے 60 سال اور اس کے ہندوستان سے الحاق کے 10 سال پورے کئے جب کہ شہر میں ثقافتی ورثہ کی پانچ بڑی یادگاروں کی بحالی کے لیے حکومت تلنگانہ کے ساتھ اپنی شراکت کو باضابطہ طور پر مضبوط کیا ۔ یہ تقریب بحال شدہ برٹش ریزیڈنس میں منعقد کی گئی تھی جس نے ڈیزائنر ترون تہلیانی کی 30 سالہ سالگرہ کی نمائش کے لیے جگہ کے طور پر بھی کام کیا ۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ کے وزیر برائے سیاحت و ثقافت جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ ورلڈ مانومنٹس فنڈ کے ساتھ یہ شراکت داری ظاہر کرتی ہے کہ ثقافتی ورثہ کا تحفظ کس طرح تحفظ سے آگے بڑھ کر روزمرہ کی عوامی زندگی کا حصہ بن سکتا ہے ۔ برٹش ریزیڈنسی اس بات کی ایک مضبوط مثال ہے ۔ انہوں نے ہیرٹیج پارٹنرس انیشیٹیو کے آغاز کا اعلان کیا جس کے تحت ریاست بھر میں 25 ہیرٹیج سائٹس کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ان میں سے 20 حیدرآباد میں ہیں اور پانچ شہر سے باہر ہیں ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل ، پرانا پل ، سٹی کالج ، ونپرتھی پیالیس اور تارا متی بارہ دری جیسی سائٹس کا عوامی اور نجی شراکت کے ذریعہ تحفظ کیا جائے گا ۔ ورلڈ مانومنٹس فنڈ کے صدر اور سی ای او بینڈیکٹ ڈی مونلاور نے کہا کہ حیدرآباد تنظیم کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ برٹش ریزیسیڈنسی اس قسم کے تحفظ کی نمائندگی کرتی ہے جہاں تاریخ کو قابل رسائی رہتے ہوئے محفوظ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایم ایف نے پچھلی دہائی کے دوران ہندوستان میں نو پراجکٹس مکمل کیے ہیں اور فی الحال دس مقامات پر 18 پراجکٹس پر کام کررہا ہے ۔۔ ش