لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نجم سیٹھی نے دھمکی دیتے ہوئے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پاکستانی ٹیم ہندوستان میں ونڈے ورلڈ کپ کھیلنے تبھی جائے گی جب ہندوستانی ٹیم یشیا کپ اور 2025 چمپینس ٹرافی کھیلنے سرحد پار کرے گی۔ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) نے حال ہی میں ہائبرڈ ماڈل کو مسترد کردیا۔ سیٹھی کا ماننا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان جب تک ایک دوسرے کے ملکوں میں کھیلنا شروع نہیں کرتے، یہی ایک متبادل نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہم نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان میں چار میچ ہوں اور بقیہ میچ کسی متبادل مقام پر کھیلے جاسکتے ہیں۔ ایشین کرکٹ کونسل دو فیصلے لے سکتی ہے۔ یا تو وہ راضی ہو اور میری اس تجویز کے مطابق شیڈول بنائے یا کہہ دے کہ سارے میچ دوسرے مقام پر کھیلے جائیں گے۔ پہلا آپشن لینے پر سب کچھ حل ہوجائے گا، لیکن دوسرا آپشن منتخب کرنے پر ہم ایشیا کپ نہیں کھیلیں گے۔ ہم جئے شاہ اور دوسروں کے جواب کا انتظار کررہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے اس سوال پر کہ کیا پاکستان کے ایشیا کپ نہ کھیلنے کی صورت میں اے سی سی میں جاری رہنے کا کوئی فائدہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ اے سی سی کو اس کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ اے سی سی کا اگلا صدر پی سی بی سے ہوگا۔ اب ہماری باری ہے۔ ہم اے سی سی میں رہنا چاہتے ہیں یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ اے سی سی پاکستان کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اے سی سی کو زیادہ سے زیادہ آمدنی صرف ہندوستان اور پاکستان سے ملتی ہے۔ اگر پاکستان ایشیا کپ نہیں کھیلتا ہے تو براڈ کاسٹر اسٹار نیٹ ورک کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لئے ایشیا کپ اور اے سی سی کیلئے ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی اہم ہیں۔ اور اسی لئے میں نے ہائبرڈ ماڈل تجویز کیا۔