جی ایچ ایم سی انتخابات کا اثر
ورنگل ، کھمم میونسپل کارپور یشن انتخابات کو 3 ماہ تک موخر کرنے حکومت کا منصوبہ
حیدرآباد : ٹی آر ایس حکومت ،حالیہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس پارٹی کے ناقص مظاہرہ کے بعد ورنگل اور کھمم کے میونسپل کارپوریشنس کے انتخابات کو تین مہینوں تک موخر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ ریاستی حکومت نے جی ایچ ایم سی انتخابات دو ماہ قبل منعقد کئے تھے لیکن ٹی آر ایس کو جلد انتخابات کروانے کافائدہ حاصل نہیں ہوسکا ۔ جی ایچ ایم سی میں بی جے پی کے ایک طاقت کے طور پر ابھرنے سے ریاست میں سیاسی حالات میں تبدیلی ہوئی ہے ۔ ورنگل اور کھمم کے میونسپل کارپوریشنس کے انتخابات شیڈول کے مطابق مارچ میں منعقد ہونا چاہئیے لیکن حکومت اب ان انتخابات کو مئی یا جون تک موخر کرنا چاہتی ہے ۔ چونکہ قبل از وقت انتخابات منعقد کرنے کی حکمت عملی سے جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس کو ایک طرح سے نقصان ہوا اس لئے حکومت اب ورنگل اور کھمم کے میونسپل کارپوریشنس کے انتخابات کو موخر کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ زیادہ وقت لے کر زیادہ ترقیاتی پروگرامس انجام دے سکے اور اس طرح ٹی آرایس کا ووٹ بینک برقرار رہے اور مزید رائے دہندوں کو گلابی پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کیلئے راغب کیا جائے ۔ موجودہ جی ایچ ایم سی کونسل کی میعاد /10 فبروری 2021 ء کو ختم ہوگی ۔ لیکن ریاستی حکومت نے نومبر کے وسط میں جی ایچ ایم سی انتخابات کا اعلامیہ جاری کیا تھا اور یکم ڈسمبر 2020 ء کو انتخابات منعقد کئے ۔ مبصرین کے مطابق ٹی آر ایس پارٹی اپوزیشن جماعتوں کو مضبوط امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی مہم کیلئے زیادہ وقت دینا نہیں چاہتی تھی اس لئے اس نے قبل از وقت انتخاب کروانے کا فیصلہ کیا ۔ پھر بھی اسے اس میں فائدہ کے بجائے نقصان ہوا کیونکہ 2016 ء میں جی ایچ ایم سی میں اس کے ارکان کی تعداد 99 تھی لیکن یہ اب 56 ہوگئی ہے ۔ بی جے پی کے ارکان کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ۔ 2016 ء میں زعفرانی پارٹی کے ارکان کی تعداد صرف 4 تھی لیکن اب جی ایچ ایم سی میں بی جے پی کے 48 ارکان ہیں ۔ اس پس منظر میں حکومت مذکورہ بالا دو کارپوریشنس کے انتخابات کو موخر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو سائز کے اعتبار سے جی ایچ ایم سی کے بعد بڑے کارپوریشنس ہیں ۔ ٹی آر ایس سربراہ اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کروائے گئے انٹرنل سرویز میں سمجھا جاتا ہے کہ اس بات کا انکشاف ہوا کہ ورنگل میں ٹی آر ایس کو بی جے پی سے سخت مقابلہ کا سامنا ہے ۔ جبکہ کھمم میں پارٹی کیلئے آسانی ہے ۔ ورنگل کو علحدہ تلنگانہ تحریک کے دنوں ہی سے ٹی آر ایس کا ایک مضبوط قلعہ سمجھا جاتا ہے اس لئے اگر ورنگل بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کو دھکہ لگے اور وہ بھی بی جے پی کے ہاتھوں تو یہ پارٹی کیلئے بڑی ناکامی کی بات ہوگی ۔