ورنگل اور کریم نگر میں حیدرآباد یونیورسٹی کا سٹیلائیٹ کیمپس

   

مرکزی وزیر تعلیم کوونود کمار کا مکتوب، دیہی نوجوانوں کو تعلیمی سہولتوں کا مطالبہ
حیدرآباد۔نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کریم نگر اور ورنگل میں دیہی نوجوانوں کو بہتر تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کیلئے یونیورسٹی آف حیدرآباد کے سٹیلائیٹ کیمپس کے قیام کی درخواست کی ہے۔ ونود کمار نے اپنے مکتوب میں بتایا کہ آل انڈیا او بی سی اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن نے سٹیلائیٹ کیمپس کے قیام کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت سے نمائندگی کی ہے۔ کیمپس کے قیام کی صورت میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش لسانی بنیادوں پر قائم کیا گیا تھا اور تلنگانہ عوام کے جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے آندھرا پردیش کا قیام عمل میں آیا۔ انہوں نے کہاکہ آندھرائی حکمرانوں نے تلنگانہ کو نظرانداز کرتے ہوئے عوام کو تعلیمی سہولتوں سے محروم رکھا۔ 1969 میں علحدہ تلنگانہ تحریک کا آغاز عمل میں آیا جس میں کئی طلباء نے اپنی جانیں قربان کی۔ اس وقت 6 نکاتی فارمولہ پیش کیا گیا جس پر فریقین نے اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی آف حیدرآباد کے قیام کا مقصد تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی تھا۔ تلنگانہ میں ایس سی، ایس ٹی ، بی سی ، مسلم اور خواتین تعلیمی طور پر پسماندہ ہیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ علاقہ کی تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل یونیورسٹی آف حیدرآباد کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس سلسلہ میں پہل کرتے ہوئے کریم نگر اور ورنگل میں سٹیلائیٹ کیمپس کے قیام کا فیصلہ کرے تاکہ دوردراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اعلیٰ تعلیم سے مستفید ہوسکیں۔