ورنگل اور کھمم کارپوریشنوں کے انتخابات پر سیاسی جماعتوں کی توجہ

   

Ferty9 Clinic

مارچ میں میعاد کی تکمیل ، بی جے پی کو روکنے کے سی آر عاجلانہ انتخابات کے حق میں
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں نے ورنگل اور کھمم کارپوریشنوں کے انتخابات پر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ دونوں کارپوریشنوں کی میعاد مارچ 2021 ء میں ختم ہوگی۔ گریٹر انتخابات میں بی جے پی کے بہتر مظاہرہ کے بعد سے ٹی آر ایس نے کھمم اور ورنگل پر خاص توجہ مرکوز کرتے ہوئے دونوں اضلاع میں دوبارہ کامیابی کی منصوبہ بندی کی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی نے ورنگل اور کھمم میں حیدرآباد کی طرح بہتر مظاہرہ کو یقینی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے قائدین اور کیڈر کو متحرک کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ دونوں کارپوریشنوں کے انتخابات کے عاجلانہ انعقاد کے حق میں ہے تاکہ بی جے پی کو قدم جمانے کا موقع نہ ملے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں کارپوریشنوں میں وارڈس کی از سر نو حدبندی کا کام باقی ہے۔ ہائی کورٹ نے حال ہی میں حدبندی کی اجازت دی ہے ۔ ورنگل میونسپل کارپوریشن پر بی جے پی کی خاص نظریں ہیں کیونکہ ضلع میں بی جے پی کا کیڈر مضبوط بتایا گیا ہے ۔ ٹی آر ایس نے دونوں اضلاع کے وزراء اور عوامی نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ ابھی سے عوام کے درمیان رہیں تاکہ انتخابات کے موقع پر مہم میں دشواری نہ ہو۔ دونوں کارپوریشنوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمشنر سی پارتھا سارتھی نے بتایا کہ ریاستی حکومت سے مشاورت کے بعد انتخابی شیڈول طئے کیا جائے گا ۔ جولائی اور اگست میں ورنگل میونسپل کارپوریشن کے کئی علاقوں میں بھاری بارش سے نقصانات ہوئے تھے۔ بی جے پی اس مسئلہ کو انتخابی موضوع بناسکتی ہے ۔ ورنگل میونسپل کارپوریشن میں جملہ نشستیں 58 ہیں۔ 2016 انتخابات میں ٹی آر ایس کے پاس 44 نشستیں ہیں۔ کانگریس کو 4 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بی جے پی اور سی پی ایم کے پاس ایک ایک نشست ہیں۔ 8 آزاد امیدوار منتخب ہوئے۔ کھمم میں 50 رکنی کارپوریشن کی 34 نشستوں پر ٹی آر ایس کا قبضہ ہے جبکہ کانگریس کو 10 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ سی پی آئی 2 ، سی پی ایم 2 اور وائی ایس آر کانگریس کو 2 نشسوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ 2016 ء میں کھمم میں بی جے پی اپنا اثر ثابت کرنے میں ناکام رہی۔