ورنگل عصمت ریزی مقدمہ کی طرز پر حاجی پور اور الوال مقدمات کی بھی یکسوئی پر زور

   

Ferty9 Clinic

سماجی جہدکار و رکن تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سیل اتھاریٹی زویا مہوین کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔10اگست(سیاست نیوز)تلنگانہ میں حالیہ عرصہ کے دوران معصوم او رنابالغ بچیوں کے اغوا‘ عصمت ریزی او رقتل کے واقعات رونماہوئے اور پولیس نے ضلع ورنگل کے ہنمکنڈہ میںپیش آئے اغوا، عصمت ریزی اور قتل کے مجرم کے خلاف جس تیزی سے مقدمہ کی سماعت کی اور ریکارڈ وقت میں اسے موت کی سزا سنائی گئی اس سے عدلیہ کا وقار بلند ہواہے۔ حاجی پور اور الوال مقدمات کی بھی اتنی تیزی سے سماعت کی جانی چاہئے اور خاطیوں کو سزا دی جانی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار سماجی جہد کاروں اور ان لڑکیوں کے والدین اور سرپرستوں نے کیا جنہیں اغوا، عصمت ریزی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سیل اتھاریٹی کے رکن اور سماجی جہد کار زویا مہوین ایڈوکیٹ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصلہ کا خیر مقدم کیا اس کے لئے مرکز، ریاستی حکومت، محکمہ پولیس اور عدلیہ سے اظہار تشکر کیا۔ زویا مہوین نے کہا کہ ورنگل پولیس نے خاطی کے خلاف ثبوت فراہم کرنے اورصرف 21دن میں چارج شیٹ فائل کرتے ہوئے ایک ریکارڈ قائم کیا۔ عدلیہ نے صرف 51دن میں مجرم کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا جس سے مقتولہ لڑکی کے ارکان خاندان کو کسی قدر طمانیت ہوئی۔ اب حاجی پور اور الوال وحشیانہ واقعات کے مرتکب افراد کے خلا ف بھی اسی تیز رفتاری سے مقدمہ چلایا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔ زویا مہوین نے کہا کہ لاکھوں مقدمات عدالت میں تصفیہ طلب ہیں۔ ملزمین کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع ہونے اور رحم درخواستوں کی وجہ سے عموماً فیصلوں پر عمل آوری میں تاخیر ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس تیزی سے فیصلہ سنایا گیا اس پر عمل بھی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سزا کے فیصلے کو عدالت میں چیالنج کرنا انسانی بنیادی حق ہے۔ جب تک مجرمین کو ان کے وحشیانہ جرائم کے لئے سخت ترین سزائیں نہ دی جائیں اس وقت تک جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ انہوں نے جرائم کے انسداد کے لئے نوجوانوں میں اچھے اور بُرے کی تمیز پیدا کرنے کے لئے شعور بیداری کی مہم کی ضرورت پر زوردیا۔