فاسٹ ٹریک عدالت میں عملا دو ہفتوں میں سماعت کی تکمیل ۔ کمشنر پولیس ورنگل و ڈی جی پی کی اظہار ستائش
حیدرآباد 8 اگسٹ ( پی ٹی آئی ) ایک تیز رفتار ترین مقدمہ میں تلنگانہ کی ایک عدالت نے ایک 27 سالہ نوجوان کو نو ماہ کی لڑکی کی عصمت ریزی اور اس کے قتل کی پاداش میں سزائے موت سنادی ۔ یہ واقعہ جاریہ سال جون میں ورنگل میں پیش آیا تھا ۔ سنسنی خیز واقعہ کے بعد زبردست عوامی برہمی پیداہوگئی تھی ۔ اس مقدمہ کی سماعت کا 24 جولائی کو آغاز ہوا تھا اور فرسٹ اڈیشنل ڈسٹرکٹ سشن جج ورنگل کے جئے کمار نے آج اپنا فیصلہ سنادیا ۔ اس طرح عملا عدالت میں مقدمہ کی کارروائی محض دو ہفتوں میں پوری ہوگئی ۔ پولیس نے یہ بات بتائی ۔ آج ورنگل کی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سنایا گیا ہے جبکہ یکم اگسٹ کو کولکتہ میں عصمت ریزی کے ایک ملزم کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور یہ فیصلہ شکایت درج کروانے کے ایک ہفتے میں کردیا گیا تھا ۔ اس طرح پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ کی یکسوئی کا وہ سب سے تیز معاملہ تھا ۔ ورنگل معاملہ میں جج نے استغاثہ اور دفاع کے دلائل کی سماعت کے بعد پہلے پی پراوین نامی نوجوان کو پہلے تو عصمت ریزی اور قتل کا خاطی قرار دیا اور کچھ دیر کے بعد سزائے موت کا اعلان کردیا گیا ۔
خاطی کو قتل اور عصمت ریزی کی پاداش میں یہ سزا سنائی گئی ۔ پولیس نے یہ بات بتائی ۔ جج نے ملزم پر 20 ہزار روپئے جرمانہ بھی عائد کیا ہے ۔ اس نے ایک نو ماہ کی لڑکی کو ایک سنسنی مقام پر لے جاکر 19 جون کی صبح کے وقت اس کا جنسی استحصال کیا تھا اور اسے بعد میں ہلاک کردیا تھا ۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ اغوا ‘ عصمت ریزی اور قتل کا ایک شاذ و نادر پیش آنے والا واقعہ ہے ایسے میں وہ سزائے موت سنا رہے ہیں۔ اڈیشنل پبلک پراسکیوٹر ایم ستیہ نارائنا گوڑ نے یہ بات بتائی جنہوں نے استغاثہ کی نمائندگی کی ۔ پی پراوین متوفی لڑکی کے علاقہ ہی کا ساکن تھا اور اسے 19 جون ہی کو پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا اور اسے عدالتی تحویل میں دیدیا گیا ۔ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے مقامی افراد نے سڑکوں پر اتر کر کئی دن تک احتجاج کیا تھا اور پھر متوفی سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ پولیس نے 11 جولائی کو عدالت میں چارچ شیٹ پیش کردی تھی اور 22 جولائی کو الزامات وضع کردئے گئے تھے ۔ ورنگل پولیس کمشنر وی رویندر نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ عدالت نے سزائے موت سنائی ہے ۔ یہ بہترین فیصلہ ہے ۔ ہم سائنٹفک اور میڈیکل ثبوت کی بنیاد پر اس مقدمہ کو عدالت میں ثابت کرسکے ہیں۔ ریاست کے ڈائرکٹر جنرل پولیس ایم مہیندر ریڈی نے بھی ورنگل کمشنریٹ کی تحقیقاتی اور سائنٹفک ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے ۔ انہوں نے ورنگل پولیس کمشنر ‘ استغاثہ کے عہدیداروں اور متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں کی کارکردگی کی بھی ستائش کی ہے ۔ انہوں نے اس کیس کے گواہان سے بھی اظہار تشکر کیا ہے ۔ انہوںنے بار کونسل و سیول سوسائیٹی کی ستائش بھی کی ہے ۔
